عقیدہ :۵ وہ کلام فرماتا ہے ۔
لیکن اس کا کلام ہم لوگوں کے کلام کی طرح کا نہیں ہے۔ وہ زبان' آنکھ' کان وغیرہ اعضاء سے اور ہر عیب اور نقصان سے پاک ہے ہر کمال اس کی ذات میں موجود ہے۔
(المسامرہ بشرح المسایرۃ ،ختم المصنف ، کتاب بیان عقیدۃ اہل السنۃ ، ص۳۹۲۔۳۹۳)
عقیدہ :۶اس کی سب صفتیں ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ کوئی صفت اس کی کبھی نہ ختم ہو سکتی ہے نہ گھٹ بڑھ سکتی ہے۔
(المعتقد المنتقد مع المستند المعتمد ، مسئلۃ صفاتہ تعالیٰ غیر محدثۃ ولا مخلوقۃ ، ص۴۹/شرح العقائد النسفیۃ ، مبحٹ اثبات الصفات ، ص۴۵۔۴۷)
عقیدہ :۷وہ اپنی پیدا کی ہوئی ہر چیز پر بڑا مہربان ہے۔ وہی سب کو پالتا ہے۔
وہ بڑائی والا اور بڑی عزت والا ہے۔
سب کچھ اسی کے قبضہ اور اختیار میں ہے جس کو چاہے پست کردے ۔جس کو چاہے بلند کردے۔
جس کی چاہے روزی کم کردے جس کی چاہے زیادہ کردے۔
(شعب الایمان ، باب فی الایمان باللہ ، فصل فی معرفۃ اسماء اللہ وصفاتہ ،رقم ۱۰۲،ج۱،ص۱۱۴)
(پ۵،النسا:۴۰ / پ۱۵، الکہف:۴۹)