Brailvi Books

جنتی زیور
153 - 676
قرض ہوتا ہے کہ جب ان دینے والوں کے یہاں عقیقہ ہو گا تو یہ لوگ اتنی ہی رقم ان کے نائی کی کٹوری میں ڈالیں گے۔ اسی طرح سوپ میں کچا اناج رکھ کر نائی کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح عقیقہ میں لوگوں نے یہ رسم مقرر کر لی ہے کہ جس وقت بچے کے سر پر استرا رکھا جائے فوراََ اسی وقت بکرا بھی ذبح کیا جائے۔ یہ سب رسمیں بالکل ہی لغو ہیں۔ شریعت میں فقط اتنی بات ہے کہ نائی کو سر مونڈنے کی اجرت دے دی جائے اور بکرا خواہ سر منڈنے سے پہلے ذبح کریں خواہ بعد میں سب جائز و درست ہے۔ اسی طرح ختنہ میں بعض جگہ اس رسم کی بے حد پابندی کی جاتی ہے بچے کا لباس' بستر' چادر سب کچھ سرخ رنگ کا تیار کیا جاتا ہے اور چوبیس گھنٹے بچہ کے ہاتھ میں چاقو یا چھری کارکھنا لازم سمجھا جاتا ہے۔ یہ سب رسمیں من گھڑت خرافات ہیں شریعت سے ان باتوں کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

جہیز:۔ماں باپ کچھ کپڑے' کچھ زیورات' کچھ سامان' برتن' پلنگ' بستر' میز کرسی' تخت' جائے نماز قرآن مجید' دینی کتابیں وغیرہ لڑکی کو دے کر اس کو سسرال بھیجتے ہیں یہ لڑکی کا جہیز کہلاتا ہے۔ بلا شبہ یہ جائز بلکہ سنت ہے کیونکہ ہمارے حضور رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے بھی اپنی پیاری بیٹی حضرت بی بی فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کو جہیز میں کچھ سامان دے کر رخصت فرمایا تھا لیکن یاد رکھو کہ جہیز میں سامان کا دینا یہ ماں باپ کی محبت وشفقت کی نشانی ہے اور ان کی خوشی کی بات ہے۔ ماں باپ پر لڑکی کو جہیز دینا یہ فرض و واجب نہیں ہے۔ لڑکی اور داماد کے لئے ہرگز ہرگز یہ جائز نہیں ہے کہ وہ زبردستی ماں باپ کو مجبور کرکے اپنی پسند کا سامان جہیز میں وصول کریں ماں باپ کی حیثیت اس قابل ہو یا نہ ہو مگر جہیز میں اپنی پسند کی چیزوں کا تقاضا کرنا اور ان کو مجبور کرنا کہ وہ قرض لے کربیٹی دامادکی خواہش پوری کریں۔ یہ خلاف شریعت بات ہے بلکہ آج کل ہندوؤں کے تلک جیسی رسم مسلمانوں میں بھی چل