Brailvi Books

جنتی زیور
152 - 676
طرف چل کر داد دیتے ہیں اور انعام کا روپیہ دیتے ہیں۔ یہ پاؤں کا زنا ہے۔ بعض بدکاری بھی کرلیتے ہیں۔ یہ اصل زناہے۔

آتش بازی خواہ شب برات میں ہو یا شادی بیاہ میں ہر جگہ ہر حال میں حرام ہے۔ اور اس میں کئی  گناہ ہیں۔ یہ اپنے مال کو فضول برباد کرنا ہے قرآن مجید میں فضول مال خرچ کرنے والے کو شیطان کا بھائی فرمایا گیا ہے اور ان لوگوں سے اﷲعزوجل و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم بیزار ہیں۔ پھر اس میں ہاتھ پاؤں کے جلنے کا اندیشہ یا مکان میں آگ لگ جانے کا خوف ہے اور بلاوجہ جان یا مال کو ہلاکت اور خطرے میں ڈالنا شریعت میں حرام ہے۔ 

    اسی طرح شادی بیاہ میں دولھا کو مکان کے اندر بلانا اور عورتوں کا سامنے آکر یا تاک جھانک کر اس کو دیکھنا، اس سے مذاق کرنا، اس کے ساتھ چوتھی کھیلنا یہ سب رسمیں حرام و ناجائز ہیں شادی یا دوسرے موقعوں پر خاصدان، عطردار، سرمہ دانی سلائی وغیرہ چاندی سونے کا استعمال کرنا، بہت باریک کپڑے پہننا یا بجتے ہوئے زیور پہننا یہ سب رسمیں ناجائز ہیں۔

    عقیقہ بس اسی قدر سنت ہے کہ لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی کے عقیقہ میں ایک بکرا ذبح کرنا اور اس کا گوشت کچا یا پکا کر تقسیم کردینا اور بچے کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی خیرات کر دینا اور بچے کے سر میں زعفران لگا دینا۔ یہ سب کام تو ثواب کے ہیں باقی اس کے علاوہ جو رسمیں ہوتی ہیں کہ نائی سر مونڈنے کے بعد سب کنبہ و برادری کے سامنے کٹوری ہاتھ میں لے کر اپنا حق مانگتا ہے اور لوگ اس کٹوری میں پیسے ڈالتے ہیں۔ اور برادری کے لوگ جو کچھ نائی کی کٹوری میں ڈالتے ہیں وہ گھر والے کے ذمہ ایک