پڑی ہے کہ شادی طے کرتے وقت ہی یہ شرط لگادیتے ہیں کہ جہیز میں فلاں فلاں سامان' اور اتنی اتنی رقم دینی پڑے گی چنانچہ بہت سے غریبوں کی لڑکیاں اسی لئے بیاہی نہیں جارہی ہیں کہ ان کے ماں باپ لڑکی کے جہیز کی مانگ پوری کرنے کی طاقت نہیں رکھتے یہ رسم یقیناً خلاف شریعت ہے اور جبراً قہراً ماں باپ کو مجبور کرکے زبردستی جہیز لینا یہ ناجائز ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس بری رسم کو ختم کردیں۔
تہواروں کی رسمیں:۔مسلمانوں میں یہ رواج ہے کہ عید کے دن سویاں پکاتے ہیں بقر عید کے دن گوشت بھری پوریاں قسم قسم کے کباب تیار کرتے ہیں۔ شب برات میں حلوا پکاتے ہیں۔ محرم میں کھچڑا پکاتے ہیں۔ شربت بناتے ہیں رجب کے مہینے میں تبارک کی روٹیاں پکاتے ہیں۔ اور بزرگوں کی فاتحہ دلاتے ہیں۔ آپس میں مل جل کر کھاتے کھلاتے ہیں۔ عزیزوں اور رشتہ داروں کے یہاں تحفہ بھیجتے ہیں۔ ایک دوسرے کے بچوں کو تہواریاں دیتے ہیں ان سب رسموں میں چونکہ شریعت کے خلاف کوئی بات نہیں ہے اس لئے یہ سب رسمیں جائز ہیں بعض فرقوں والے ان چیزوں کو ناجائز بتاتے ہیں۔ اور نیاز وفاتحہ کے کھانوں کو حرام ٹھہراتے ہیں اور خواہ مخواہ مسلمانوں کے سر پر یہ الزام تھوپتے ہیں کہ مسلمان ان رسموں کو فرض و واجب سمجھتے ہیں اور طرح طرح سے کھینچ تان کر ان جائز رسموں کو ممنوع و حرام بتاتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کا ظلم اور زیادتی ہے کہ خدا کی حلال کی ہوئی چیزوں کو بلا کسی شرعی دلیل کے حرام ٹھہراتے ہیں۔ ان رسموں کو ہرگز ہرگز کوئی مسلمان فرض و واجب نہیں سمجھتا بلکہ ہر مسلمان ان باتوں کو ایک جائز رسم و رواج ہی سمجھ کر کیا کرتا ہے اور یقیناََیہ سب باتیں جائز ہیں بلکہ اگر اچھی نیت سے ہوں تو مستحب اور کارثواب بھی ہیں۔ (واﷲتعالیٰ اعلم)