Brailvi Books

جنتی زیور
151 - 676
گاتی بجاتی رہتی ہیں اور گلگلے پکتے رہتے ہیں پھر صبح کو گاتی بجاتی ہوئی مسجد میں طاق بھرنے کے لئے جاتی ہیں۔ اس میں بہت سی خرافات پائی جاتی ہیں۔ نیاز گھر میں بھی ہو سکتی ہے اور اگر مسجد ہی میں ہوتو مرد لے جاسکتے ہیں۔ عورتوں کو جانے کی کیا ضرورت ہے؟ ان عورتوں کے ہاتھ میں ایک آٹے کا بنا ہوا چار بتیوں والا چراغ بھی ہوتا ہے جو گھی سے جلایا جاتا ہے غور کیجئے کہ جب صبح ہو گئی تو چراغ کی کیا ضرورت؟ اور اگر چراغ کی حاجت ہے تو مٹی کا چراغ کافی ہے۔ آٹے کا چراغ بنانااور تیل کی جگہ گھی جلانا بالکل ہی اسراف اور فضول خرچی اور مال کو برباد کرنا ہے جو شرعاََ حرام ہے۔ دولہا دلہن کو ابٹن ملوانا۔ مائیوں بٹھانا جائز ہے لیکن دولھا کے ہاتھ پاؤں میں زینت کے لئے مہندی لگانا جائز نہیں ہے۔ یوں ہی دولھا کو ریشمی پوشاک یا زیورات پہننا پہنانا حرام ہے۔ خالص پھولوں کا سہرا جائز ہے۔ بلاوجہ اس کو ممنوع نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں سونے چاندی کے تاروں' گوٹوں' لچھوں اور کَلابَتُّو وغیرہ کا بنا ہوا ہار یا سہرادولہا کے لئے حرام اور دلہن کے لئے جائز ہے۔ ناچ باجا' آتش بازی حرام ہیں۔ 

    شادیوں میں دو قسم کے ناچ کرائے جاتے ہیں۔ ایک رنڈیوں کا ناچ جو مردوں کی محفل میں ہوتا ہے۔ دوسرا وہ ناچ جو خاص عورتوں کی محفل میں ہوتا ہے کہ کوئی ڈومنی یا مراثن ناچتی ہے اور کمر کولہے مٹکا مٹکا کر اور ہاتھوں سے چمکا چمکا کر تماشا کرتی ہے۔ یہ دونوں قسم کے ناچ ناجائز و حرام ہیں۔ رنڈی کے ناچ میں جو گناہ اور خرابیاں ہیں ان کو سب جانتے ہیں۔ کہ ایک نامحرم عورت کو سب مرد بے پردہ دیکھتے ہیں۔ یہ آنکھوں کا زنا ہے۔ اس کی شہوت انگیز آواز کو سنتے ہیں۔ یہ کانوں کا زنا ہے۔ اس سے باتیں کرتے ہیں۔ یہ زبان کا زنا ہے۔ بعض اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں یہ ہاتھوں کا زنا ہے۔ بعض اس کی