Brailvi Books

جنتی زیور
150 - 676
جرات کر سکتا ہے کہ لوگوں کو کانوں اور گردن کے مسح سے منع کر دے کہ لوگ ایک غیر فرض کو فرض سمجھنے لگے ہیں۔

    بس اسی طرح سمجھ لو کہ لوگ ہمیشہ عید کے دن سویاں اور شب برات کو حلوا پکاتے ہیں اور میلاد شریف میں ہمیشہ شیرینی بانٹتے ہیں اور کبھی بھی اس کو ترک نہیں کرتے مگر اسکو ہمیشہ کرنے سے یہ الزام نہیں آتا کہ لوگ ان کاموں کو فرض سمجھنے لگے ہیں۔ جس طرح گردن اور کانوں پر ہمیشہ مسح کرنے والا ہمیشہ کرنے کے باوجود یہی عقیدہ رکھتا ہے کہ کانوں اور گردن کا مسح فرض نہیں ہے بلکہ سنت و مستحب ہے۔ اسی طرح ہمیشہ عید کو سویاں اور شب برات کو حلوا پکانے والا یہی عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ فرض نہیں ہیں بلکہ جائز و مباح ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ کسی چیز کو فرض سمجھنا یا فرض نہ سمجھنا اس کا تعلق عقیدہ سے ہے نہ کہ عمل سے۔ کہاں عمل؟ اور کہاں عقیدہ؟ عمل اور چیز ہے اور عقیدہ اور چیز۔ دونوں میں بڑافرق ہے!

    بہر حال خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں رواج پا جانے والی تمام رسومات حرام و ناجائز نہیں۔ بلکہ کچھ رسمیں جائز اور کچھ ناجائز ہیں۔ اور جائز رسموں کو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ جائز رسموں کی پابندی اسی حد تک کر سکتا ہے کہ کسی فعل حرام میں مبتلا نہ ہو۔

چند بری رسمیں:۔اکثر جاہلوں میں رواج ہے کہ بچوں کی پیدائش یا عقیقہ یا ختنہ یا شادی بیاہ کے موقعوں پر محّلہ یا رشتہ کی عورتیں جمع ہوتی ہیں اور گاتی بجاتی ہیں۔ یہ ناجائز و حرام ہے کہ اولاََ ڈھول بجانا ہی حرام۔ پھر عورتوں کا گانا اور زیادہ برا۔ عورت کی آواز نامحرموں کو پہنچنا اور وہ بھی گانے کی۔ اور وہ بھی عشق اور ہجر و وصال کے اشعار اور گیت ظاہر ہے کہ یہ کتنے فتنوں کا سر چشمہ ہے۔ اسی طرح عورتوں کا رتجگا بھی ہے کہ رات بھر عورتیں