Brailvi Books

جنتی زیور
149 - 676
بازی دولھا کو چاندی سونے کے زیورات پہنانا۔ تقریبات میں عورتوں مردوں کا بے پردگی کے ساتھ جمع ہونا۔ گھر کے اندر عورتوں کے درمیان دولھا کو بلانا اور عورتوں کا بے پردہ ان کے سامنے آنا۔ اور سالیوں وغیرہ کا ہنسی مذاق کرنا۔ دولھا کے جوتوں کو چرا لینا پھر زبردستی دولھا سے انعام وصول کرنا وغیرہ وغیرہ لیکن شریعت نے جن رسموں کو جائز بتایا۔ یا وہ رسمیں جن کے بارے میں شریعت خاموش ہے ان کو ہرگز ہرگز ناجائز اور حرام نہیں کہا جاسکتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب تک کسی رسم کی ممانعت شریعت سے نہ ثابت ہو۔ اس وقت تک اسے حرام و ناجائز نہیں کہہ سکتے۔ خواہ مخواہ مسلمانوں کی تمام رسموں کو کھینچ تان کر ممنوع اور حرام قرار دینا، اور بلاوجہ مسلمانوں کو بدعتی اور حرام کا مرتکب کہنا یہ بہت بڑی زیادتی اور دین میں حد سے بڑھ جانا ہے ۔ کیونکہ ہر شخص یہ جانتا ہے کہ مسلمانوں کی رسموں اور رواجوں کی بنیاد عرف پر ہے۔ یہ کوئی مسلمان بھی نہیں سمجھتا کہ یہ سب رسمیں شرعاََ واجب یا سنت یا مستحب ہیں۔ بعض مولویوں کا یہ کہنا کہ چونکہ فلاں رسم کو لوگ فرض سمجھنے لگے ہیں اور اس کو کبھی ترک نہیں کرتے ہیں اس لئے لوگوں کو ہم اس رسم سے روکتے ہیں کہ لوگ ایک غیر فرض کو فرض سمجھنے لگے ہیں ۔ مسلمانو! خوب سمجھ لو کہ یہ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔ اور درحقیقت یہ لوگ خود بھی دھوکے میں ہیں۔ اور دوسروں کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔ یاد رکھو کہ کسی چیز کو ہمیشہ کرتے رہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اسکا کرنے والااس کو فرض سمجھتا ہے کسی چیز کو ہمیشہ کرتے رہنا یہ اور بات ہے۔ اور اسکو فرض سمجھ لینا اور بات ہے۔ دیکھو وضو کرنے والا ہمیشہ وضو میں کانوں اور گردن کا مسح ضرور کرتا ہے کبھی بھی گردن اور کانوں کے مسح کو نہیں چھوڑتا۔ تو کیا کوئی بھی اس پر یہ الزام لگا سکتا ہے؟ کہ وہ سر کے مسح کی طرح گردن اور کانوں کے مسح کو بھی فرض سمجھتا ہے۔ حالانکہ کانوں اور گردن کا مسح سنت و مستحب ہے اور کیا کوئی بھی اسکی