| جنتی زیور |
کے عرسوں کو ناجائز و حرام لکھا۔ محرم میں ذکر شہادت اور سبیلوں سے منع کیا۔ اور لطف یہ ہے کہ ان لوگوں سے جب ان رسومات کے کفر و شرک اور بدعت و حرام ہونے پر دلیل طلب کی جاتی ہے تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم لوگوں نے احتیاطاً ان چیزوں کو کفر و شرک اور حرام و بدعت لکھ دیا ہے تاکہ لوگ ڈر کر ان چیزوں کو چھوڑ دیں۔ خدا کے لئے کوئی ان سے پوچھے کہ اﷲتعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو کفر و شرک' اور حرام و ناجائز ٹھہرانا یہ احتیاط ہے یا اعلیٰ درجے کی بے احتیاطی ہے؟ اﷲتعالیٰ نے جن چیزوں کو حلال بتایا ہے ان کو کفر وشرک اور حرام بتانا۔ یہ اﷲتعالیٰ پر افتراء وتہمت ہے اور قرآن مجید میں اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ۔
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنۡ کَذَبَ عَلَی اللہِ ۔
یعنی اس سے زیادہ ظالم اور کون ہوگا؟ جو اﷲتعالیٰ پر جھوٹی تہمت لگائے۔(پ24،الزمر:32)
بہر حال خلاصہ کلام یہ ہے کہ جن رسموں کو اﷲعزوجل و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حرام نہیں بتایا۔ ان کو خواہ مخواہ کھینچ تان کر حرام ٹھہرانا یہ خود بہت بڑا گناہ ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان لوگوں سے بھی الگ تھلگ رہیں۔ اور ہر گز ہرگز ان لوگوں کی پیروی نہ کریں۔
سوم ہم سب اہلسنّت و جماعت کا مقدس طبقہ ہيں۔ جس کے بڑے بڑے علمبرداروں میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی و مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی' ومولانا فضل رسول بدایونی' ومولانا فضل حق خیر آبادی'ومولانا بحر العلوم لکھنوی و اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی وغیرہ بزرگان دین ہیں۔ اہلسنّت و جماعت کے ان مقدس بزرگوں کا مسلمانوں کی رسموں کے بارے میں یہ فتویٰ ہے کہ مسلمانوں کی وہ رسمیں جن کو شریعت نے منع کیا ہے وہ یقیناََ حرام و ناجائز ہیں۔ مثلاََ ناچ گانا۔ باجا بجانا۔ آتش