Brailvi Books

جنتی زیور
147 - 676
    ہمارے یہاں مسلمانوں کی تقریبات میں جن رسموں کا رواج پڑ گیا ہے ان کے بارے میں تین قسم کے مکتبِ خیال کے لوگ ہیں جو اپنے اپنے مسلک کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔

    اول لال' پیلے' ہرے رنگ کے لباسوں والے گیسو دراز قسم کے رنگین مزاج باباؤں کا گروہ جو تصوف کا لبادہ اوڑھے ہوئے صوفی بنے پھرتے ہیں ان حقیقت و معرفت کے ٹھیکیداروں نے تو تمام خرافات اور خلاف شریعت رسومات کو جائز ٹھہرا رکھا ہے۔ یہاں تک کہ ڈھولک اور طبلہ کی تھاپ' اور ہار مونیم اور سارنگی کے راگ پر ان لوگوں کو معرفت کی معراج حاصل ہوتی ہے۔ ان لوگوں نے اپنی جہالت سے مسلم معاشرہ کو تہس نہس' اور اسلام کے مقدس چہرے کو خرافات و بدعات اور خلاف شریعت رسومات کے داغ دھبوں سے مسخ کر ڈالا ہے۔ یہ لوگ بلا شبہ خطاکار ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان لوگوں کی صحبت' اور ان لوگوں کی پیروی سے ہمیشہ بچتے رہیں۔

    دوم وہابیوں دیوبندیوں کا فرقہ ہے جنہوں نے اصلاح کے نام سے اسلامی معاشرہ اور دین اسلام کی حجامت بنا ڈالی ہے۔ ان لوگوں نے یہ ظلم کیا ہے کہ مسلم معاشرہ کی جائز و ناجائز تمام رسومات کو حرام و بدعت بلکہ کفر و شرک ٹھہرا دیا ہے۔ اور یہ لوگ یہاں تک حد سے بڑھ گئے کہ دولھا کے سر پر سہرا باندھنے کو کفر و شرک لکھ دیا ہے اور زیب و زینت کے لیے دیواروں پر دیوار گیری اور چھتوں میں چھت گیری لگانے کو بدعت اور حرام لکھ مارا۔ اور دوسری بہت سی جائز چیزوں مثلاََ قبروں پر چادر ڈالنے' بزرگوں کی نیازو فاتحہ دلانے ' مردوں کا تیجہ' چالیسواں کرنے کو بدعت و حرام قرار دے دیا۔ میلاد شریف کی مجلسوں کو حرام و بدعت بلکہ کَنْہِیا کے جنم سے بدتر لکھ دیا۔ قیام و سلام کو نا جائز و ممنوع قرار دیا۔ بزرگان دین