| جنتی زیور |
پھنس کر اپنے دین و دنیا کو تباہ و برباد کر ڈالو گی۔ اس لئے لازم ہے کہ نا شکری کی عادت چھوڑ کر ہمیشہ خدا کے انعاموں اور شوہر وغیرہ کے احسانوں کا شکریہ ادا کرتے رہنا چاہے۔ اﷲتعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔
لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّكُمْ وَلَئِنۡ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ
''یعنی اگر تم شکر ادا کرتے رہو گے تو میں زیادہ سے زیادہ نعمتیں دیتا رہوں گا۔ (پ13،ابراہیم:7)اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بہت ہی سخت ہے۔''
اس آیت نے اعلان کردیا کہ شکر ادا کرنے سے خدا کی نعمتیں بڑھتی ہیں اور ناشکری کرنے سے خدا کا عذاب اتر پڑتا ہے۔
(۱۴)جھگڑا تکرار:۔بات بات پر ساس سسر اور بہو یا شوہر یا عام مسلمان مردوں اور عورتوں سے جھگڑا تکرار کرلینا یہ بھی بہت بری عادت ہے اور گناہ کا کام ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ جھگڑالو آدمی خدا کو بے حد ناپسند ہے۔(جامع الترمذی،کتاب تفسیرالقرآن،باب۲۳،الحدیث۲۹۸۷،ج۴،ص۴۵۶)
اس لئے اگر کسی سے کوئی اختلاف ہو جائے یا مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو سہولت اور معقول گفتگو سے معاملات کو طے کر لینا نہایت ہی عمدہ اور بہترین عادت ہے جھگڑے تکرار کی عادت کمینوں اور بد تہذیب لوگوں کا طریقہ ہے اور یہ عادت انسان کے لئے ایک بہت ہی بڑی مصیبت ہے کیونکہ جھگڑالو آدمی کا کوئی بھی دوست نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر شخص کی نگاہوں میں قابل نفرت ہو جاتا ہے اور لوگ اس کے جھگڑے کے ڈر سے اس کو منہ نہیں لگاتے اس سے بات نہیں کرتے۔