| جنتی زیور |
(۱۵)کاہلی:۔یہ ایسی منحوس عادت ہے کہ اس کی وجہ سے سینکڑوں دوسری خراب عادتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ مکان' سامان' کپڑوں اور بدن کی گندگی' برتنوں سامانوں کی بے ترتیبی' وقت پر کھانے پینے سے محرومی' شوہر اور سسرال والوں سے ناراضگی' بچوں کا پھوہڑپن' طرح طرح کی بیماریاں وغیرہ وغیرہ یہ ساری بلائیں اور مصیبتیں اسی کاہلی کے سب انڈے بچے ہیں۔ اسی لئے اس عادت کو ہرگز ہرگز اپنے قریب نہیں آنے دینا چاہے بلکہ دینی و دنیاوی کاموں میں ہر وقت چاق و چوبند ہوکر لگے رہنا چاہے۔ خوب یاد رکھو! کہ محنتی آدمی ہر شخص کا پیارا ہوتا ہے اور کاہل آدمی ہر ایک در سے پھٹکارا جاتا ہے اور ہر کام میں مار پڑتی ہے۔ کاہل آدمی نہ دنیا کا کام کرسکتا ہے نہ دین کا اسی لئے رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ۔
اَللّٰھُمَّ اِنِیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسْلِ ۔
(جامع الترمذی، کتاب الدعواۃ ، باب ۷۱،رقم ۳۴۹۶،ج۵،ص۲۹۴)
یعنی اے اﷲ! میں کاہلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (۱۶)ضد:۔اپنی کسی بات پر اس طرح اڑ جانا کہ کوئی لاکھ سمجھائے مگر کسی کی بات اور سفارش قبول نہ کرے۔ اس بری خصلت کا نام ''ضد'' ہے یہ اس قدر خراب اور منحوس عادت ہے کہ آدمی کی دنیا و آخرت کو تباہ و برباد کر ڈالتی ہے ایسے آدمی کو دنیا میں سب لوگ ''ضدی '' اور ''ہٹ دھرم'' کہنے لگتے ہیں۔ اور کوئی بھی اس کو منہ لگانے اور اس سے بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ یہی وہ خبیث عادت تھی جس نے ابو جہل کو جہنم میں دھکیل دیا کہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اور مومنوں نے اس کو لاکھوں مرتبہ سمجھایا اور اس نے شق القمر اور کنکریوں کے کلمہ پڑھنے کا معجزہ بھی دیکھ لیا مگر پھر بھی اپنی ضد پر اڑا رہا۔ اور ایمان نہ