Brailvi Books

جنتی زیور
126 - 676
میں جھونک دیا۔ اس قسم کی ناشکری کرتی اور جلی کٹی باتیں سناتی رہتی ہیں۔ چنانچہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ میں نے جہنم میں زیادہ تعداد عورتوں کی دیکھی تو صحابہ علیھم الرضوان نے کہا یا رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! اس کی کیا وجہ ہے کہ عورتیں زیادہ جہنمی ہوگئیں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ عورتیں ایک دوسرے پر بہت زیادہ لعنت ملامت کرتی رہتی ہیں اور ناشکری کرتی رہتی ہیں۔ تو صحابہ علیھم الرضوان نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! کیا عورتیں خدا کی ناشکری کیاکرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ عورتیں احسان کی ناشکری کرتی ہیں اور اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہیں۔ ان عورتوں کی یہ عادت ہے کہ تم زندگی بھر میں ان کے ساتھ احسان کرتے رہو لیکن اگر کبھی کچھ بھی کمی دیکھیں گی تو یہی کہہ دیں گی کہ میں نے کبھی بھی تمہاری طرف سے کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔
(صحیح البخاری ، کتاب الایمان ، باب کفران العشیر ۔۔۔الخ، رقم ۲۹،ج۱،ص۲۳)
    عزیز بہنو! سن لو خدا کے انعاموں' اور شوہر یا دوسروں کے احسانوں کی ناشکری بہت ہی خراب عادت' اور بہت بڑا گناہ ہے۔ ہر مسلمان مرد وعورت کے لئے لازم ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے سے کمزور اور گری ہوئی حالت والوں کو دیکھا کرے کہ اگر میرے پاس گھٹیاکپڑے اور زیور ہیں تو خدا کا شکر ہے کہ فلاں اور فلانی سے تو ہم بہت ہی اچھی حالت میں ہیں کہ ان لوگوں کو بدن ڈھانپنے کے لئے پھٹے پرانے کپڑے بھی نصیب نہیں ہوتے۔ اسی طرح اگر میرے شوہر نے میرے لئے معمولی غذا کا انتظام کیا ہے تو اس پر بھی شکر ہے کیونکہ فلانی فلانی عورتیں تو فاقہ کیا کرتی ہیں۔ بہر حال اگر تم اپنے سے کمزور اورغریبوں پر نظر رکھو گی تو شکر ادا کرو گی اور اگر تم اپنے سے مالداروں پر نظر کرو گی تو تم ناشکری کی بلامیں
Flag Counter