| جنتی زیور |
(۱۰)عیب جوئی:۔ادھر ادھر کان لگا کر لوگوں کی باتوں کو چھپ چھپ کر سننایا تاک جھانک کر لوگوں کے عیبوں کو تلاش کرنا۔ یہ بڑی ہی چھچھوری حرکت اور خراب عادت ہے۔ دنیا میں اس کا انجام بدنامی اور ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں اس کی سزا جہنم کا عذاب ہے ایسا کرنے والوں کے کانوں اور آنکھوں میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔ قرآن مجید میں اور حدیثوں میں خداوند قدوس اور ہمارے رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ
'' وَلَا تَجَسَّسُوْا''
(الترغیب والترہیب، کتاب الادب وغیرہ ، الترہیب من الحسد وفضل السلامۃ الصدر ، رقم ۱،ج۳،ص۳۴۶)
یعنی کسی کے عیبوں کو تلاش کرنا حرام اور گناہ ہے مردوں کی بہ نسبت عورتوں میں یہ عیب زیادہ پایا جاتا ہے لہٰذا پیاری بہنو! تم اس گناہ سے خود بھی بچو اور دوسری عورتوں کو بھی بچاؤ۔ (۱۱)گالی گلوچ:۔اس گندی عادت کی برائی ہر چھوٹا بڑا جانتا ہے۔ یقیناً پھوہڑ اور فحش الفاظ اور گندے کلاموں کو بولنا یہ کمینوں اور رذیل و ذلیل لوگوں کا طریقہ ہے۔ اور شریعت میں حرام و گناہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ
سَبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ ۔
(صحیح مسلم، کتاب الایمان ، باب بیان قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔الخ، رقم ۶۴،ص۵۲)
یعنی کسی مسلمان سے گالی گلوچ کرنا یہ فاسق کا کام ہے۔
آج کل عورت ومرد سبھی اس بلا میں مبتلا ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بڑوں کی فحش کلامیوں اور گالیوں کو سن سن کر بچے بھی گندی اور پھوہڑ گالیاں بکنے لگتے ہیں اور پھر بچپن سے بڑھاپے تک اس گندی عادت میں گرفتار رہتے ہیں لہٰذا ہر مردو عورت پر لازم ہے کہ