لو یہ سب بھی جھوٹ ہی ہے۔ اس قسم کی بولیاں بول کر والدین گناہ کبیرہ کرتے رہتے ہیں اور اس قسم کی باتوں کو لوگ جھوٹ نہیں سمجھتے۔ حالانکہ یقیناَ ہر وہ بات جو واقعہ کے خلاف ہو جھوٹ ہے اور ہر جھوٹ حرام ہے خواہ بچے سے جھوٹی بات کہو یا بڑے سے۔ آدمی سے جھوٹی بات کہو یا جانور سے۔ جھوٹ بہرحال جھوٹ ہے اور جھوٹ حرام ہے۔
کب اور کونسا جھوٹ جائز ہے :۔کافر یا ظالم سے اپنی جان بچانے کے لئے یا دو مسلمانوں کو جنگ سے بچانے اور صلح کرانے کے لئے اگر کوئی جھوٹی بات بول دے تو شریعت نے اس کی رخصت دی ہے۔ مگر جہاں تک ہو سکے اس موقع پر بھی ایسی بات بولے اور ایسے الفاظ منہ سے نکالے کہ کھلا ہوا جھوٹ نہ ہو بلکہ کسی معنی کے لحاظ سے وہ صحیح بھی ہو اس کو عربی زبان میں ''توریہ''کہتے ہیں۔ مثلاََ ڈاکو نے تم سے پوچھا کہ تمھارے پاس مال ہے کہ نہیں؟ اور تم کو یقین ہے کہ اگر میں اقرار کر لوں گا تو ڈاکو مجھے قتل کر کے میرا مال لوٹ لے گا تو اس وقت یہ کہہ دو ''میرے پاس کوئی مال نہیں ہے'' اور نیت یہ کرلو کہ میری جیب یا میرے ہاتھ میں کوئی مال نہیں ہے۔
بکس یا جھولے میں ہے تو اس معنی کے لحاظ سے تمہارا یہ کہنا کہ میرے پاس کوئی مال نہیں ہے یہ سچ ہے اور اس معنی کے لحاظ سے میری ملکیت میں کوئی مال نہیں ہے یہ جھوٹ ہے۔ اسی قسم کے الفاظ کو عربی میں ''توریہ'' کہا جاتا ہے۔ اور جہاں جہاں یہ لکھا ہوا ہے کہ فلاں فلاں موقعوں پر مسلمان جھوٹ بول سکتا ہے۔ اسی کا یہی مطلب ہے کہ ''توریہ'' کے الفاظ بولے۔ اور اگر کھلا ہوا جھوٹ بولنے پر کوئی مسلمان مجبور کردیا جائے تو اس کو لازم ہے کہ وہ دل سے اس جھوٹ کو برا جانتے ہوئے جان و مال کو بچانے کے لئے صرف زبان سے جھوٹ بول دے اور اس سے توبہ کرلے۔ (واﷲتعالیٰ اعلم)