Brailvi Books

جنتی زیور
124 - 676
کبھی ہرگزہرگز گالیاں اور گندے الفاظ منہ سے نہ نکالیں ۔ کون نہیں جانتا کہ کبھی کبھی گالی گلوچ کی وجہ سے خوں ریز لڑائیاں ہو جایا کرتی ہیں اور مسلمانوں کی جان و مال کا عظیم نقصان ہو جایا کرتا ہے اس لئے مسلم معاشرہ کو تباہ کرنے میں بدزبانیوں اور گالیوں کا بہت بڑا دخل ہے۔ لہٰذا اس عادت کو ترک کردینا بے حد ضروری ہے خاص کر عورتوں کو اپنی سسرال میں اس کا ہر وقت خیال رکھنا چاہے۔ کیونکہ سینکڑوں عورتوں کو طلاق ان کی بدزبانیوں اور گالیوں کی وجہ سے ہو جایا کرتی ہے اور پھر میکا اور سسرال والوں میں مستقل جھگڑوں کی بنیاد پڑ جاتی ہے اور دونوں خاندان تباہی و بربادی کے غار میں گر کر ہلاک ہوجاتے ہیں۔ 

(۱۲)فضول بکواس:۔مردوں اور عورتوں کی بری عادتوں میں سے ایک بہت بری عادت بہت زیادہ بولنا اور فضول بکواس ہے۔ کم بولنا اور ضرورت کے مطابق بات چیت یہ بہت ہی پسندیدہ عادت ہے۔ ضرورت سے زیادہ بات اور فضول کی بکواس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی ایسی باتیں بھی زبان سے نکل جاتی ہیں جس سے بہت بڑے بڑے فتنے پیدا ہو جاتے ہیں اور شروفساد کے طوفان اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس لئے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے کہ
    وَکُرِہَ لَکُمْ قِیْلَ وَ قَالَ وَ کَثْرَۃَ السُّوَالِ وَ اِضَاعَۃَ الْمَالِ۔
(صحیح البخاری،کتاب الزکاۃ،باب قول اللہ تعالٰی لایسألون الناس إلحافاً، الحدیث۱۴۷۷، ج۱،ص۴۹۸)
یعنی اﷲتعالیٰ کو یہ ناپسند ہے کہ بلا ضرورت قیل اورقال اور فضول اقوال آدمی کی زبان سے نکلیں۔ اسی طرح کثرت سے لوگوں کے سامنے کسی چیز کا سوال کرتے رہنا اور فضول کاموں میں اپنے مالوں کو برباد کرنا یہ بھی اﷲتعالیٰ کو ناپسند ہے یہ بھی سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ
Flag Counter