Brailvi Books

جنتی زیور
119 - 676
بن شرف نووی (متوفی۶۷۶ھ) نے مسلم شریف کی شرح میں لکھا ہے کہ شرعی اغراض و مقاصد کے لئے کسی کی غیبت کرنی جائز اور مباح ہے اور اس کی چھ صورتیں ہیں۔

اول)مظلوم کا حاکم کے سامنے کسی ظالم کے ظالمانہ عیوب کو بیان کرنا۔ تاکہ اس کی داد رسی ہوسکے۔

دوئم)کسی شخص کی برائیوں کو روکنے کے لئے کسی صاحب اقتدار کے سامنے اس کی برائیوں کو بیان کرنا تاکہ وہ اپنے رعب داب سے اس شخص کو برائیوں سے روک دے۔

سوئم)مفتی کے سامنے فتویٰ طلب کرنے کے لئے کسی کے عیوب کو پیش کرنا۔

چہارم)مسلمانوں کو شروفساد اور نقصان سے بچانے کے لئے کسی کے عیوب کو بیان کردینا مثلاََ جھوٹے راویوں' جھوٹے گواہوں' بدمذہبوں کی گمراہیوں' جھوٹے مصنفوں اور واعظوں کے جھوٹ اور ان لوگوں کے مکر و فریب کو لوگوں سے بیان کردینا۔ تاکہ لوگ گمراہی کے نقصان سے بچ جائیں اسی طرح شادی بیاہ کے بارے میں مشورہ کرنے والے سے فریق ثانی کے واقعی عیبوں کو بتا دینا یا خریداروں کو نقصان سے بچانے کے لئے سامان یا سودا بیچنے والے کے عیوب سے لوگوں کو آگاہ کردینا۔

پنجم)جو شخص علی الاعلان فسق و فجور اور قسم قسم کے گناہوں کا مرتکب ہو مثلاََ چور' ڈاکو' زنا کار' خیانت کرنے والا' ایسے اشخاص کے عیوب کو لوگوں سے بیان کردینا' تاکہ لوگ نقصان سے محفوظ رہیں اور ان لوگوں کے پھندوں میں نہ پھنسیں۔

ششم)کسی شخص کی پہچان کرانے کے لئے اس کے کسی مشہور عیب کو اس کے نام کے ساتھ ذکر کردینا۔ جیسے حضرات محدثین کا طریقہ ہے کہ ایک ہی نام کے چند راویوں میں امتیاز اور ان کی پہچان کے لئے اعمش (چندھا) اعرج (لنگڑا) اعمیٰ (اندھا) احول