| جنتی زیور |
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ بھی ارشاد ہے کہ میں نے معراج کی رات میں کچھ لوگوں کو اس حال میں دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنے ناخنوں سے اپنے چہروں کو کھرچ کھرچ کر نوچ رہے ہیں میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کی غیبت اور آبروریزی کیا کرتے تھے۔
(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب وغیرہ ، باب الترہیب من الغیبۃ والبھت، رقم ۲۱،ج۳،ص۳۳۰)
یاد رکھو کہ پیٹھ پیچھے کسی آدمی کی ان باتوں کو بیان کرنا جن کو وہ پسند نہیں کرتا یہ غیبت ہے خواہ اس کا کوئی ظاہری عیب ہو یا باطنی' اس کا پیدائشی عیب ہو یا اس کا اپنا پیدا کیا ہوا عیب ہو۔ اس کے بدن' اس کے کپڑوں' اس کے خاندان و نسب' اس کے اقوال و افعال چال ڈھال ' اس کی بول چال غرض کسی عیب کو بھی بیان کرنا یا طعنہ مارنا یہ سب غیبت ہی میں داخل ہے لہٰذا اس غیبت کے گناہ سے ہر مسلمان مرد وعورت کو بچنا لازم اور ضروری ہے۔
قرآن مجید میں اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ۔
وَلَا یَغْتَبۡ بَّعْضُكُمۡ بَعْضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنۡ یَّاۡكُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ۔
''اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی یہ پسند کریگا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ تو یہ تمہیں گوارا نہ ہو گا۔(پ26،الحجرات:12)
مطلب یہ ہے کہ غیبت اس قدر گھناؤنا گناہ ہے جیسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا تو جس طرح تم ہر گز ہر گز کبھی یہ گوارا نہیں کرسکتے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کی لاش کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھاؤ۔ اسی طرح ہرگز ہرگز کبھی کسی کی غیبت مت کیا کرو۔
کن کن لوگوں کی غیبت جائز ہے؟:۔حضرت علامہ ابو زکریا محی الدین