اوپر ذکر کی ہوئی صورتوں میں چونکہ کسی کے عیبوں کو بیان کر دینا ہے اسلئے بلا شبہ یہ غیبت تو ہے۔ لیکن ان صورتوں میں شریعت نے جائز رکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی غیبت کر دے تونہ کوئی حرج ہے نہ کوئی گناہ بلکہ بعض صورتوں میں اس قسم کی غیبت مسلمانوں پر واجب ہو جاتی ہے۔ مثلاََ ایسے موقعوں پر کہ اگر تم نے کسی کے عیب کو بیان نہ کر دیا تو کسی مسلمان کے نقصان میں پڑ جانے کا یقین یا غالب گمان ہو۔ مثال کے طور پر ایک مسلمان رقم لے کر جا رہا ہو اور ایک سفید پوش ڈاکو تسبیح و مصلیٰ لئے بزرگ بن کر اس مسلمان کے ساتھ ساتھ چل رہا ہو اور مسلمان بالکل ہی اس ڈاکو کے بارے میں لاعلم ہو اور تم کو یقین ہے کہ یہ ڈاکو ضرور ضرور اس بھولے بھالے مسلمان کو دھوکہ دے کر لوٹ لے گا اور تم اس ڈاکو کے عیب کو جانتے ہو تو اس صورت میں ایک بھولے بھالے مسلمان کو نقصان سے بچانے کے لئے ڈاکو کے عیب کو اس مسلمان سے بیان کر دینا تم پر واجب ہے۔ حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے اسی بات کو اسطرح بیان فرمایا ہے کہ