Brailvi Books

جنتی زیور
117 - 676
ضرور اس بات کا چرچا کرو لیکن اگر اس بات کو دوسروں تک پہنچانے میں دو مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور جھگڑے کا اندیشہ ہو تو خبردار خبردار ہر گز کبھی بھی اس بات کا نہ چرچا کرو نہ کسی دوسرے سے کہو ورنہ تم پر امانت میں خیانت کرنے اور چغلخوری کا گناہ ہوگا اور اس گناہ کا دنیا میں بھی تم پر یہ و بال پڑے گا کہ تم سب کی نگاہوں میں بے وقار اور ذلیل و خوار ہوجاؤ گے اور آخرت میں بھی عذاب جہنم کے حق دار ٹھہرو گے۔

(۷)غیبت:۔کسی کو غائبانہ برا کہنا' یا پیٹھ پیچھے اس کا کوئی عیب بیان کرنا یہی غیبت ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے صحابہ کرام علیھم الرضوان سے فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا چیز ہے۔ صحابہ علیھم الرضوان نے کہا کہ اﷲعزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم زیادہ جاننے والے ہیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشادفرمایا کہ تمہارا اپنے بھائی کی ان باتوں کو بیان کرنا جن کو وہ ناپسند سمجھتا ہے۔ یہی غیبت ہے تو صحابہ علیھم الرضوان نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّمیہ بتایئے کہ اگر میرے اس دینی بھائی میں واقعی وہ باتیں موجود ہوں۔ تو کیا ان باتوں کا ذکر کرنا بھی غیبت کہلائے گا؟ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اگر اس کے اندر وہ باتیں واقعی ہوں گی جبھی تو تم اس کی غیبت کرنے والے کہلاؤ گے اور اگر اس میں وہ باتیں نہ ہوں اور تم اپنی طرف سے گھڑ کر کہو گے جب تو تم اس پر بہتان لگانے والے ہو جاؤ گے جو ایک دوسرا گناہ کبیرہ ہے جس کا کرنے والا جہنم کا ایندھن بنے گا۔
(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ ، باب تحریم الغیبۃ ، رقم ۲۵۸۹،ص۱۳۹۷)
یاد رکھو غیبت اتنا بڑا گناہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہاں تک فرمایا کہ
         اَلْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا
یعنی غیبت زنا سے بڑا گناہ ہے۔
(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب وغیرہ ، باب الترہیب من الغیبۃ والبھت بیانھما والترغیب فی ردھما ، رقم ۲۴،ج۳،ص۳۳۱)
Flag Counter