ضرور اس بات کا چرچا کرو لیکن اگر اس بات کو دوسروں تک پہنچانے میں دو مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور جھگڑے کا اندیشہ ہو تو خبردار خبردار ہر گز کبھی بھی اس بات کا نہ چرچا کرو نہ کسی دوسرے سے کہو ورنہ تم پر امانت میں خیانت کرنے اور چغلخوری کا گناہ ہوگا اور اس گناہ کا دنیا میں بھی تم پر یہ و بال پڑے گا کہ تم سب کی نگاہوں میں بے وقار اور ذلیل و خوار ہوجاؤ گے اور آخرت میں بھی عذاب جہنم کے حق دار ٹھہرو گے۔
(۷)غیبت:۔کسی کو غائبانہ برا کہنا' یا پیٹھ پیچھے اس کا کوئی عیب بیان کرنا یہی غیبت ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے صحابہ کرام علیھم الرضوان سے فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا چیز ہے۔ صحابہ علیھم الرضوان نے کہا کہ اﷲعزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم زیادہ جاننے والے ہیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشادفرمایا کہ تمہارا اپنے بھائی کی ان باتوں کو بیان کرنا جن کو وہ ناپسند سمجھتا ہے۔ یہی غیبت ہے تو صحابہ علیھم الرضوان نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّمیہ بتایئے کہ اگر میرے اس دینی بھائی میں واقعی وہ باتیں موجود ہوں۔ تو کیا ان باتوں کا ذکر کرنا بھی غیبت کہلائے گا؟ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اگر اس کے اندر وہ باتیں واقعی ہوں گی جبھی تو تم اس کی غیبت کرنے والے کہلاؤ گے اور اگر اس میں وہ باتیں نہ ہوں اور تم اپنی طرف سے گھڑ کر کہو گے جب تو تم اس پر بہتان لگانے والے ہو جاؤ گے جو ایک دوسرا گناہ کبیرہ ہے جس کا کرنے والا جہنم کا ایندھن بنے گا۔