ہے تو سمجھ لو کہ اس کے ایمان میں کچھ فتور ضرور ہے اور یہ کامل درجے کا مسلمان نہیں ہے۔
بخل کا علاج:۔حضرت امام غزالی رحمۃ اﷲتعالی علیہ نے فرمایا کہ کنجوسی ایک ایسا مرض ہے کہ اس کا علاج بے حد دشوار ہے خصوصاََ بڈھا آدمی بخیل ہو تو وہ تقریباً لاعلاج ہے اور کنجوسی کا سبب مال کی محبت ہے۔ جب تک مال کی محبت دل سے زائل نہیں ہوگی۔کنجوسی کی بیماری رفع نہیں ہو سکتی۔ پھر بھی اس کے دو علاج بہت ہی کامیاب اور کار آمد ہیں اور وہ یہ ہیں اول یہ کہ آدمی سوچے کہ مال کے مقاصد کیا ہیں؟ اور میں کس لئے پیدا کیا گیا ہوں؟ اور مجھے دنیا میں مال جمع کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ عالم آخرت کے لئے بھی ذخیرہ جمع کر نا چاہے جب یہ خیال دل میں جم جائے گا تو پھر دل میں دنیا کی بے ثباتی اور عالم آخرت کا دھیان پیدا ہوگا اور ناگہاں دل میں ایک ایسا نور پیدا ہو جائے گا کہ دنیا سے اور دنیا کے مال و اسباب سے بے رغبتی اور نفرت پیدا ہونے لگے گی پھر بخیلی اور کنجوسی کی بیماری خود بخود دفع ہو جائے گی اور جذبہ سخاوت اس طرح پیدا ہوجائے گا کہ خدا کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوئے اس کو لذت محسوس ہونے لگے گی۔
اور دوسرا علاج یہ ہے کہ بخیلوں اور سخی لوگوں کی حکایات پڑھے اور عالموں سے بکثرت اس قسم کے واقعات سنتا رہے کہ بخیلوں کا انجام کتنا بُرا ہوا ہے اور سخی لوگوں کا انجام کتنا اچھا ہوا ہے اس قسم کے واقعات و حکایات پڑھتے پڑھتے' سنتے سنتے بخیلی سے نفرت اور سخاوت کی رغبت دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ کنجوسی کا مرض زائل ہو جاتا ہے۔