Brailvi Books

جنتی زیور
112 - 676
حرص ذلت بھری فقیری ہے

جو قناعت کرے' تو نگر ہے
(۴)کنجوسی بخیلی بہت ہی منحوس خصلت ہے۔ بخیل مال رکھتے ہوئے کھانے پینے' پہننے اوڑھنے' وطن اور سفر ہر جگہ ہر حال میں ہر چیز میں ہر قسم کی تکلیفیں اٹھاتا ہے اور ہر جگہ ذلیل ہوتا ہے اور کوئی بھی اس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے کہ سخی اﷲ سے قریب ہے۔ جنت سے قریب ہے۔ انسانوں سے قریب ہے۔ جہنم سے دور ہے اور بخیل اﷲ سے دور ہے۔ جنت سے دور ہے۔ انسانوں سے دور ہے۔ جہنم سے قریب ہے اور یقیناََ سخی جاہل' عبادت گزار بخیل سے زیادہ اﷲعزوجل کو پیارا ہے۔
(جامع الترمذی، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی السَخَاء ، رقم ۱۹۶۸،ج۳،ص۳۸۸)
    اور حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ دھوکہ باز اور بخیل اور احسان جتانے والا جنت میں نہیں داخل ہوگا۔
(جامع الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی البخل، رقم ۱۹۷۰،ج۳،ص۳۸۸)
    اور یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ دو خصلتیں ایسی ہیں جو دونوں ایک ساتھ مومن میں اکٹھا جمع نہیں ہوں گی۔ ایک کنجوسی دوسری بد اخلاقی۔
(جامع الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی البخل، رقم ۱۹۶۹،ج۳، ص۳۸۷)
 حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں خصلتیں بری ہیں اور یہ دونوں بری خصلتیں مومن میں ایک ساتھ نہیں پائی جائیں گی۔ مومن اگر بخیل ہوگا تو بد اخلاق نہیں ہوگا۔اور اگربد اخلاق ہوگا تو بخیل نہیں ہوگا۔ اور اگر تم کسی ایسے منحوس آدمی کو دیکھو کہ وہ بخیل بھی ہے اوربد اخلاق بھی
Flag Counter