Brailvi Books

جنتی زیور
114 - 676
شیطان اپنی اس منحوس خصلت کی وجہ سے مردود بارگاہ الٰہی عزوجل ہوا۔ اور خداوند قہارو جبار نے لعنت کا طوق اس کے گلے میں پہنا کر اس کو جنت سے نکال دیا۔

    تکبر کے معنی یہ ہیں کہ آدمی دوسروں کو اپنے سے حقیر سمجھے۔ یہی جذبہ شیطان ملعون کے دل میں پیدا ہو گیا تھا کہ جب اﷲتعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو فرشتے چونکہ تکبر کی نحوست سے پاک تھے سب فرشتوں نے سجدہ کرلیا لیکن شیطان کے سر میں تکبر کا سودا سمایا ہوا تھا اس نے اکڑ کر کہہ دیا کہ۔
قَالَ  اَنَا خَیۡرٌ مِّنْہُ ؕ خَلَقْتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ  مِنۡ طِیۡنٍ ﴿76﴾
    ''یعنی میں حضرت آدم سے اچھا ہوں۔ اے اﷲ! تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے پیدا فرمایا''(پ۲۳،صۤ:۷۶)

    اس ملعون نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنے سے حقیر سمجھا اور سجدہ نہیں کیا۔

یاد رکھو کہ جس آدمی میں تکبر کی شیطانی خصلت پیدا ہو جائے گی اس کا وہی انجام ہوگا جو شیطان کا ہوا کہ وہ دونوں جہان میں خداوند قہار و جبار کی پھٹکار سے مردود اور ذلیل و خوار ہوگیا۔ یاد رکھو کہ تکبر خدا کو بے حد ناپسند ہے اور یہ بہت ہی بڑا گناہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کے دل میں رائی برابر ایمان ہوگا وہ جہنم میں نہیں داخل ہوگا اور جس شخص کے دل میں رائی برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں داخل ہوگا۔
    (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب تحریم الکبر وبیانہ ، رقم ۹۱،ص۶۱)
    ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ میدان محشر میں تکبر کرنے والوں کو اس طرح لایا جائے گا کہ ان کی صورتیں انسانوں کی ہوں گی مگر ان کے قد چیونٹیوں کے برابر ہوں گے اور ذلت و رسوائی میں یہ گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ لوگ گھسیٹتے ہوئے جہنم کی طرف
Flag Counter