لالچ اور حرص کا جذبہ خوراک' لباس' مکان' سامان' دولت' عزت' شہرت' غرض' ہر نعمت میں ہوا کرتا ہے۔ اگر لالچ کا جذبہ کسی انسان میں بڑھ جاتا ہے تو وہ انسان طرح طرح کی بداخلاقیوں اور بے مروتی کے کاموں میں پڑجاتا ہے اور بڑے سے بڑے گناہوں سے بھی نہیں چوکتا۔ بلکہ سچ پوچھئے تو حرص و طمع اور لالچ درحقیقت ہزاروں گناہوں کا سر چشمہ ہے اس سے خدا کی پناہ مانگنی چاہے۔
لالچ کاعلاج :۔اس قلبی مرض کا علاج صبر و قناعت ہے یعنی جو کچھ خدا کی طرف سے بندے کو مل جائے اس پر راضی ہو کر خدا کا شکر بجا لائے اور اس عقیدہ پر جم جائے کہ انسان جب ماں کے پیٹ میں رہتا ہے۔ اسی وقت فرشتہ خدا کے حکم سے انسان کی چار چیزیں لکھ دیتا ہے۔ انسان کی عمر' انسان کی روزی' انسان کی نیک نصیبی' انسان کی بدنصیبی' یہی انسان کا نوشتہ تقدیر ہے۔ لاکھ سرما رو مگر وہی ملے گا جو تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے اس کے بعد یہ سمجھ کر کہ خدا کی رضا اور اس کی عطا پر راضی ہوجاؤ اور یہ کہہ کر لالچ کے قلعے کو ڈھا دو کہ جو میری تقدیر میں تھا وہ مجھے ملا اور جو میری تقدیر میں ہوگا وہ آئندہ ملے گا اور اگر کچھ کمی کی وجہ سے قلب میں تکلیف ہو اور نفس ادھر ادھر لپکے تو صبر کر کے نفس کی لگام کھینچ لو۔ اسی طرح رفتہ رفتہ قلب میں قناعت کا نور چمک اٹھے گا اور حرص و لالچ کا اندھیرا بادل چھٹ جائے گا یاد رکھو! ؎