Brailvi Books

جنتی زیور
110 - 676
و ایمان خراب کررہا ہوں۔ یہ سوچ کر پھر اپنے دل میں اس خیال کو جمائے کہ اﷲتعالیٰ علیم و حکیم ہے۔ جو شخص جس چیز کا اہل ہوتا ہے اﷲ تعالیٰ اسکو وہی چیز عطا فرماتا ہے۔ میں جس پر حسد کر رہا ہوں۔ اﷲ کے نزدیک چونکہ وہ ان نعمتوں کا اہل تھا۔ اس لئے اﷲتعالیٰ نے اس کو یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور میں چونکہ ان کا اہل نہیں تھا اس لئے اﷲتعالیٰ نے مجھے نہیں دیں۔ اس طرح حسد کا مرض دل سے نکل جائے گا اور حاسدکو حسد کی جلن سے نجات مل جائے گی۔
(احیاء علوم الدین ، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد ، بیان الدواء الذی ینقی مرض الحسد عن القلب ، ج۳،ص۳۴۲)
سچ ہے ؎

اس کے الطاف تو ہیں عام شہیدی سب پر

تجھ سے کیا ضدتھی اگر تو کسی قابل ہوتا
(۳) لا لچ:۔یہ بہت ہی بری خصلت اور نہایت خراب عادت ہے اﷲتعالیٰ کی طرف سے بندے کو جو رزق و نعمت اور مال و دولت یا جاہ ومرتبہ ملا ہے اس پر راضی ہو کر قناعت کر لینا چاہے۔ دوسروں کی دولتوں اور نعمتوں کو دیکھ دیکھ کر خود بھی اس کو حاصل کرنے کے پھیر میں پریشان حال رہنا اور غلط و صحیح ہر قسم کی تدبیروں میں دن رات لگے رہنا یہی جذبہ حرص و لالچ کہلاتا ہے اور حرص و طمع در حقیقت انسان کی ایک پیدائشی خصلت ہے۔

    چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ اگر آدمی کے پاس دومیدان بھر کر سونا ہوجائے تو پھر وہ ایک تیسرے میدان کو طلب کریگا کہ وہ بھی سونے سے بھر جائے اور ابن آدم کے پیٹ کو قبر کی مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو شخص اس سے توبہ کرے اﷲ تعالیٰ اس
Flag Counter