حسد اس لئے بہت بڑا گناہ ہے کہ حسد کرنے والا گویا اﷲ تعالیٰ پر اعتراض کررہا ہے کہ فلاں آدمی اس نعمت کے قابل نہیں تھا اس کو یہ نعمت کیوں دی ہے؟ اب تم خود ہی سمجھ لو کہ اﷲتعالیٰ پر کوئی اعتراض کرنا کتنا بڑا گناہ ہوگا۔
حسد کا علاج:۔حضرت امام غزالی رحمتہ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ حسد قلب کی بیماریوں میں سے ایک بہت بڑی بیماری ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ حسد کرنے والاٹھنڈے دل سے یہ سوچ لے کہ میرے حسد کرنے سے ہرگز ہرگز کسی کی دولت و نعمت برباد نہیں ہوسکتی۔ اور میں جس پر حسد کررہا ہوں میرے حسد سے اس کا کچھ بھی نہیں بگڑ سکتا۔ بلکہ میرے حسد کا نقصان دین و دنیا میں مجھ کو ہی پہنچ رہا ہے کہ میں خواہ مخواہ دل کی جلن میں مبتلا ہوں اور ہر وقت حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہوں اور میری نیکیاں برباد ہورہی ہیں اور میں جس پر حسد کر رہا ہوں میری نیکیاں قیامت میں اس کو مل جائیں گی۔پھر یہ بھی سوچے کہ میں جس پر حسد کررہا ہوں۔ اس کو خداوند کریم نے یہ نعمتیں دی ہیں اور اس پر ناراض ہو کر حسد میں جل رہا ہوں تو میں گویا خداوند تعالیٰ کے فعل پراعتراض کرکے اپنا دین