Brailvi Books

جنتی زیور
108 - 676
کی جگہ ظلم، شکر کی جگہ ناشکری، ایمان کی جگہ کفر، ہو تو بھلا کون کہہ سکتا ہے کہ یہ غصہ اچھا ہے؟ یقینا یہ غصہ برا ہے اور یہ بہت ہی بری خصلت اور نہایت ہی خراب عادت ہے اس سے بچنا ہر مسلمان مردوعورت کے لئے لازم ہے۔

غصہ کا علاج:۔جب بے محل غصہ کی جھلاہٹ آدمی پر سوار ہو جائے تو رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ اس کو چاہے کہ وہ فوراً ہی وضو کرے۔ اس لئے کہ بے محل اور مضر غصہ دلانے والا شیطان ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھ جاتی ہے اس لئے وضو غصہ کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔
(سنن ابی داود ، کتاب الادب ، باب مایقال عند الغضب ، رقم ۴۷۸۴، ج۴،ص۳۲۷)
    اور ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر کھڑے ہونے کی حالت میں غصہ آجائے تو آدمی کو چاہے کہ فوراً بیٹھ جائے تو غصہ اتر جائے گا۔ اور اگر بیٹھنے سے بھی غصہ نہ اترے تو لیٹ جائے تاکہ غصہ ختم ہو جائے۔
    (المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند ابی ذر ، رقم ۲۱۴۰۶،ج۸،ص۸۰)
(۲)حسد:کسی کو کھاتا پیتا یا پھلتا پھولتا آسودہ حال دیکھ کر دل جلانا اور اس کی نعمتوں کے زوال کی تمنا کرنا۔ اس خراب جذبہ کا نام ''حسد'' ہے۔ یہ بہت ہی خبیث عادت اور نہایت ہی بری بلا، اور گناہ عظیم ہے۔ حسد کرنے والے کی ساری زندگی جلن اور گھٹن کی آگ میں جلتی رہتی ہے اور اسے چین اور سکون نصیب نہیں ہوتا۔ اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے پیارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو حکم دیا ہے کہ۔ ''حسد کرنے والے کے حسد سے آپ خدا کی پناہ مانگتے رہے''۔ (پ۳۰،الفلق:۵)
Flag Counter