Brailvi Books

جنتی زیور
107 - 676
علیہ واٰلہٖ وسلّم!مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے مگر بہت ہی تھوڑا ہو تو  آپ نے ارشاد فرمایا کہ ''غصہ مت کر'' اس نے کہا کہ کچھ اور ارشاد فرمایئے تو  آپ نے پھر یہی فرمایا کہ ''غصہ مت کر'' غرض کئی بار اس شخص نے دریافت کیا مگر ہر مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہی فرمایا کہ ''غصہ مت کر'' یہ بخاری شریف کی حدیث ہے۔
 (صحیح البخاری، کتاب الادب ، باب الحذرمن الغضب،رقم ۶۱۱۶،ج۴،ص۱۳۱)
    ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہ ارشاد فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں ہے جو لوگوں کو پچھاڑ دیتا ہے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے نفس پر قابو رکھے۔
(صحیح البخاری، کتاب الادب ، باب الحذرمن الغضب،رقم ۶۱۱۴،ج۴،ص۱۳۰)
غصہ کب بُرا' کب اچھا ہے؟:۔غصہ کے معاملہ میں یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ غصہ بذات خود نہ اچھا ہے نہ برا۔ درحقیقت غصہ کی اچھائی اور برائی کا دارو مدار موقع اور محل کی اچھائی اور برائی پر ہے اگر بے محل غصہ کیا اور اس کے اثرات برے ظاہر ہوئے تو یہ غصہ برا ہے ۔ اور اگر بر محل غصہ کیا اور اس کے اثرات اچھے ظاہر ہوئے تو یہ غصہ اچھا ہے۔ مثلاََ کسی بھوکے پیاسے دودھ پیتے بچے کے رونے پر تم کو غصہ آگیا اور تم نے بچے کا گلا گھونٹ دیا تو چونکہ تمہارا یہ غصہ بالکل ہی بے محل ہے اس لئے یہ غصہ برا ہے اور اگر کسی ڈاکو کو ڈاکہ ڈالتے وقت دیکھ کر تم کو غصہ آگیا اور تم نے بندوق چلا کر اس ڈاکو کا خاتمہ کردیا تو چونکہ تمہارا یہ غصہ بالکل بر محل ہے۔ لہٰذایہ غصہ برا نہیں بلکہ اچھا ہے۔ حدیث شریف میں جس غصہ کی مذمت اور برائی بیان کی گئی ہے۔ یہ وہی غصہ ہے جو بے محل ہو اور جس کے اثرات برے ہوں۔ بالکل ظاہر بات ہے کہ غصہ میں رحم کی جگہ بے رحمی اور عدل
Flag Counter