Brailvi Books

جنتی زیور
105 - 676
کرام علیھم الرضوان سے فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ مفلس کون شخص ہے؟ تو صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا کہ جس شخص کے پاس درہم اور دوسرے مال وسامان نہ ہوں وہی مفلس ہے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میری امت میں اعلیٰ درجے کا مفلس وہ شخص ہے کہ وہ قیامت کے دن نماز' روزہ اور زکوٰۃ کی نیکیوں کولے کر میدان حشر میں آئے گا مگر اس کا یہ حال ہوگا کہ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی کسی پر تہمت لگائی ہوگی۔ کسی کا مال کھالیا ہوگا۔ کسی کا خون بہایا ہوگا' کسی کو مارا ہوگا تو یہ سب حقوق والے اپنے اپنے حقوق کو طلب کریں گے تو اﷲتعالیٰ اس کی نیکیوں سے تمام حقوق والوں کو ان کے حقوق کے برابرنیکیاں دلائے گا۔ اگر اس کی نیکیوں سے تمام حقوق والوں کے حقوق نہ ادا ہو سکے بلکہ نیکیاں ختم ہوگئیں اور حقوق باقی رہ گئے تو اﷲتعالیٰ حکم دے گا کہ تمام حقوق والوں کے گناہ اس کے سر پر لاد دو۔ چنانچہ سب حق والوں کے گناہوں کو یہ سر پر اٹھائے گا پھر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تو یہ شخص سب سے بڑا مفلس ہوگا۔
(صحیح مسلم ، کتاب البروالصلۃ ، باب تحریم الظلم، رقم ۲۵۸۱،ص۱۳۹۴)
    اس لئے انتہائی ضروری ہے کہ یا تو حقوق کو ادا کردو۔ یا معاف کرالو۔ ورنہ قیامت کے دن حقوق والے تمہاری سب نیکیوں کو چھین لیں گے اور ان کے گناہوں کا بوجھ تم اپنے سر پر لے کر جہنم میں جاؤ گے۔ خدا کے لئے سوچو کہ تمہاری بے کسی و بے بسی اور مفلسی کا قیامت میں کیا حال ہوگا۔
Flag Counter