Brailvi Books

جنتی زیور
104 - 676
حق دے دو۔یعنی جس سے قرض لیا تھا اسی کو قرض ادا کردویا اس سے قرض معاف کرالو اور اگر وہ شخص مر گیا ہو تو اس کے وارثوں کو اس کا حق یعنی قرض ادا کر دو۔ اور اگر وہ حق ادا کرنے کی چیز نہ ہو بلکہ معاف کرانے کے قابل ہو مثلاًکسی کی غیبت کی ہو یا کسی پر تہمت لگائی ہو تو ضروری ہے کہ اس شخص سے اس کو معاف کرالو۔ اور اگر کسی وجہ سے حق داروں سے نہ ان کے حقوق کو معاف کراسکانہ ادا کرسکا۔ مثلاً صاحبان حق مرچکے ہوں تو ان لوگوں کے لئے ہمیشہ بخشش کی دعاکرتا رہے اور اﷲتعالیٰ سے توبہ و استغفار کرتا رہے تو امید ہے کہ قیامت کے دن اﷲتعالیٰ صاحبان حق کو بہت زیادہ اجرو ثواب دے کر اس بات کے لئے راضی کردے گا کہ وہ اپنے حقوق کو معاف کردیں۔ اور اگر تمہارا کوئی حق دوسروں پر ہو ۔ اور اس حق کے ملنے کی امید ہو تو نرمی کے ساتھ تقاضا کرتے رہو۔ اور اگر وہ شخص مرگیا ہو تو بہتر یہی ہے کہ تم اپنے حق کو معاف کردو۔ ان شاء اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے بدلے میں بہت بڑا اور بہت زیادہ اجرو ثواب ملے گا۔
(واﷲتعالیٰ۱علم)
    عام طور پر لوگ بندوں کے حقوق ادا کرنے کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتے۔ حالانکہ بندوں کے حقوق کا معاملہ بہت ہی اہم' نہایت ہی سنگین اور بے حد خوفناک ہے۔ بلکہ ایک حیثیت سے دیکھا جائے توحقوق اﷲ (اﷲ کے حقوق) سے زیادہ حقوق العباد (بندوں کے حقوق) سخت ہیں۔ اﷲتعالیٰ تو ارحم الراحمین ہے وہ اپنے فضل و کرم سے اپنے بندوں پر رحم فرما کر اپنے حقوق معاف فرما دے گا مگر بندوں کے حقوق کو اﷲتعالیٰ اس وقت تک نہیں معاف فرمائے گا۔ جب تک بندے اپنے حقوق کو نہ معاف کردیں۔ لہٰذا بندوں کے حقوق کو ادا کرنا یا معاف کرالینا بے حد ضروری ہے ورنہ قیامت میں بڑی مشکلوں کا سامنا ہوگا۔

    حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک مرتبہ صحابہ
Flag Counter