نے جنت کو دیکھا ہے؟''وہ عرض کرتے ہیں:''نہیں۔''اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ''اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو؟''وہ عرض کرتے ہیں:''تواور زیادہ اس کی حرص وطلب کرتے اور مزیدرغبت رکھتے۔''
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ''وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے؟''وہ عرض کرتے ہیں:''یارب ِ کریم!وہ جہنم سے پناہ مانگ رہے تھے۔'' اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :''اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو کیا کرتے ۔''وہ عرض کرتے ہیں:''تو پھر اس سے فرار حاصل کرنے میں اور زیادہ کوشش کرتے اور بہت زیادہ ڈرتے۔''تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ''گواہ ہوجاؤ،میں نے ان لوگوں کی مغفرت فرما دی۔''ان میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے:''یا الہی!ان میں ایک ایسا شخص بھی تھا،جو ذکرکرنے والوں میں سے نہیں تھا،بلکہ اپنے کسی کام سے آیا تھااور ان میں بیٹھ گیا تھا۔''اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ''اے فرشتو!جوذکرکرنے والوں کے ساتھ بیٹھ جائے،وہ بھی محروم نہیں رہتا۔''
(مسلم کتاب الذکرو الدعاء، باب فضل مجالس الذکر ،رقم ۲۶۸۹، ص ۱۴۴۴)
(۳) حضرتِ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلي الله عليه وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا:''کیا میں تمہارے اعمال میں سے ان اعمال کی خبر نہ دوں کہ جواعمال میں سے سب سے بہتر،تمہارے مالک کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیزہ ،درجات کے لحاظ سے بلندوبالااور خرچ کے اعتبار سے زرومال سے بھی بہتر ہیں؟اور اس سے بھی کہ تم کسی دشمن کا سامنا کرواورپھر وہ تمہاری گردنیں کاٹ دیں اور تم ان کی گردنیں کاٹ دو؟''انہوں نے عرض کی:''یارسول اللہ صلي الله عليه وسلم!ضرور خبر دیجئے؟'' فرمایا: ''اللہ عزوجل کا ذکر کرنا۔''(ترمذی، کتاب الدعوات، باب فضل الذکر ،رقم ۳۳۸۷، ج۵ ،ص ۲۴۵)