Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
87 - 152
تو میں بھی اسے تنہایا د کرتا ہوں اور اگر وہ میراذکر مجمع میں کرتاہے تو میں اس سے بہتر مجمع میں اسکا ذکر کرتاہوں اگر وہ ایک بالشت مجھ سے قریب ہوتاہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چلتے ہوئے آتا ہے تومیر ی رحمت اس کے پاس دوڑتی ہوئی آتی ہے۔''

(بخاری ،کتاب التو حید ،باب قول اللہ ویحذرکم اللہ نفسہ ،رقم ۷۴۰۵ ،ج۴ ،ص ۵۴۱)

    (۲) حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا فرمان ہے،''فرشتے ،اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں کو راستوں میں تلاش کرتے رہتے ہیں اور جب انہیں ذکرالہی کرنے والے لوگ مل جاتے ہیں،تو نداء کرتے ہیں کہ''آؤ تمہاری مراد پوری ہوگئی،ذکرکرنے والے مل گئے ہیں۔''پھر فرشتے ان ذکر کرنے والوں کو آسمان تک اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں۔جب یہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرماتا ہے:''اے میرے فرشتو!میرے بندے کیاکررہے تھے؟''حالانکہ وہ فرشتوں سے زیادہ جانتا ہے۔وہ عرض کرتے ہیں،''یارب !وہ تیری تسبیح وتحمید وتکبیراور تیری بزرگی کا تذکرہ کررہے تھے۔''

    پھر اللہ تعالیٰ دریافت فرماتا ہے :''کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟''وہ عرض کرتے ہیں:''تیری ذات کی قسم انہوں نے تجھے ہرگز نہیں دیکھا۔''اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ''اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو کیا کرتے ؟''وہ عرض کرتے ہیں:''پھر تو تیری عبادت وتسبیح وعظمت کا بیان زیادہ کرتے۔''اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ''وہ کیا مانگ رہے تھے؟''وہ عرض کرتے ہیں:''یارب!وہ جنت طلب کررہے تھے۔''اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ''کیا انہوں