صدرا لشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں :''وعدہ کیا مگر اس کو پورا کرنے میں کوئی شرعی قباحت تھی اس وجہ سے پورا نہیں کیا تو اس کو وعدہ خلافی نہیں کہا جائے گا اور وعدہ خلافی کا جو گناہ ہے اس صورت میں نہیں ہوگا اگرچہ وعدہ کرتے وقت اس نے استثناء نہ کیا ہو کہ یہاں شریعت کی طرف سے استثناء موجود ہے اس کو زبان سے کہنے کی ضرورت نہیں مثلاً وعدہ کیا تھا کہ'' میں فلاں جگہ پر آؤں گا اور وہاں بیٹھ کر تمہارا انتظار کروں گا ۔''مگر جب وہاں گیا تو دیکھتا ہے کہ ناچ رنگ اور شراب نوشی وغیرہ میں لوگ مصروف ہیں ،(لہذا!)وہاں سے چلا آیا تو یہ وعدہ خلافی نہیں ہے ، یا اس کا انتظار کرنے کا وعدہ کیا اور انتظار کر رہا تھا کہ نماز کا وقت آگیا ،یہ چلا آیا (تو یہ)وعدہ کے خلاف نہیں ہوا۔(بہار شریعت،حصہ ۱۶، مسئلہ نمبر ۴،ص۷۰۹)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم