Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
79 - 152
چالیسویں قسم          جھوٹا وعدہ کرنا

     قرآنِ مجید میں ہے :
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕ
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو اپنے قول پورے کرو۔(پ۶،المائدہ:۱)

    مکی مدنی سلطان رحمتِ عالمیان صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا :''جو کسی مسلمان سے عہد شکنی کرے ،اس پر اللہ تعالیٰ ،فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل ۔''(بخاری ، رقم الحدیث ۱۸۷۰،ج۱،ص۶۱۶)

    ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:''چار علامتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور ان میں سے ایک علامت ہوئی تو اس شخص میں نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے ،(۱)جب امانت دی جائے تو خیانت کرے ، (۲)جب بات کرے تو جھوٹ بولے ،(۳)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے (۴)جب جھگڑا کرے تو گالی بکے ۔(بخاری ،ج۱،ص ۱۷، رقم ۳۴)

مسئلہ:

    اگر کسی سے کوئی کام کرنے کا وعدہ کیا اور وعدہ کرتے وقت نیت میں فریب نہ ہو پھر بعد میں اس کام کو کرنے میں کوئی حرج پایا جائے تو اس وجہ سے اس کام کو نہ کرنا وعدہ خلافی نہیں کہلائے گا ، حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ،''وعدہ خلافی یہ نہیں کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی بھی ہو بلکہ وعدہ خلافی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی نہ ہو ۔''

(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ،ج۱۰، حصہ اول ، ص ۸۹)
Flag Counter