Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
69 - 152
چھبیسویں قسم تلاوتِ قرآن سنتے وقت گفتگو کرنا
    قرآن پاک میں ہے کہ
وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾
ترجمہ کنز الایمان:اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔''(پ۹،الاعراف :۲۰۴)

اور ۔۔۔۔۔۔    فتاویٰ رضویہ(جلد دہم،ص۱۶۷) میں ہے ، ''جب بلند آواز سے قرآن پاک پڑھا جائے تو حاضرین پر سننا فرض ہے جبکہ وہ مجمع سننے کی غرض سے حاضر ہو، ورنہ ایک کا سننا کافی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ کام میں ہوں۔''

    اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم
ستائیسویں قسم     قضائے حاجت کرتے وقت باتیں کرنا
    قضائے حاجت کے وقت اور بیت الخلاء میں باتیں کرنا مکروہ تحریمی ہے ،لہذا اس سے بھی بچا جائے ۔(حدیقہ ندیہ،ج۲، ص۳۱۱)

     حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مکی مدنی سلطان رحمتِ عالمیان انے ارشاد فرمایا: ''جب دو شخص قضائے حاجت کو جائیں تو پردہ کرلیں اورباتیں نہ کريں کیونکہ ایسے موقع پر باتیں کرنا اللہ کو سخت ناپسندہے ۔''

(تاریخ بغداد ، رقم الحدیث۶۵۷۴،ج۱۲،ص۱۲۲)

    اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم
Flag Counter