| جنّت کی دوچابیاں |
اور اگر بوجہِ علم اسکی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیوی خصومت کے باعث برا کہتا ہے،گالی دیتا ہے تحقیر کرتا ہے تو (ایسا کرنے والا)سخت فاسق فاجر ہے اور اگر بے سبب رنج رکھتا ہے تو مریض القلب ،خبیث الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے ۔''(فتاویٰ رضویہ ،ج۱۰،نصف اول ،ص۱۴۰)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلمپچیسویں قسم خطبے کے دوران بولنا
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور انور صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا:'' جو امام کے خطبہ دیتے وقت کلام کرے اسکی مثال اس گدھے کی ہے جو بوجھ اٹھاتا ہے اورجو بات کرنے والے کو چپ رہنے کا کہے اسکا جمعہ (کامل)نہیں ہوگا۔''
(الترغیب والترہیب ، کتاب الجمعۃ ، الترہیب من الکلام والامام یخطب، رقم الحدیث۳،ج۱،ص۲۹۲)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدنی تاجدار صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ''امام کے خطبہ دیتے وقت تمہارا کسی کو کہنا ''چپ رہو'' لغو ہے۔''
(صحیح البخاری ، کتاب الجمعۃ ، باب الانصاتِ یوم الجمعۃ والامام یخطب ، رقم الحدیث۹۳۴،ج۱،ص۳۲۱)
علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :''خطبہ میں کھانا پینا ،کلام کرنا اگرچہ سبحان اللہ کہنا ،سلام کا جواب دینا یا نیکی کی بات بتانا حرام ہے۔''
(درمختار مع ردالمحتار ،ج۳،ص۳۵)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم