Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
70 - 152
اٹھائیسویں قسم      لوگوں کے بُرے نام رکھنا
    اصل نام سے ہٹ کر کسی کا ایسا ویسا نام (مثلاً لمبو، ٹھنگو،کالو وغیرہ)رکھنا بھی ہمارے معاشرے میں بہت معمولی تصور کیا جاتا ہے حالانکہ اس سے سامنے والے کو تکلیف پہنچتی ہے اور یہ ممنوع ہے۔ہاں! اگر سامنے والے کو واقعتا اذیت نہ پہنچے اور اس میں اس کی تحقیر بھی نہ ہو اور وہ اسی نام سے معروف ہو تو حرج نہیں لیکن پھر بھی اصل نام سے پکارنا ہی مناسب ہے ۔

رب تعالیٰ فرماتاہے :
وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقَابِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوۡقُ بَعْدَ الْاِیۡمَانِ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان : اورایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا۔(پ۲۶، الحجرات : ۱۱)

    اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم
انتسویں قسم     کھانے میں سے عیب نکالنا
    کھانے میں عیب نکالنامکروہ و خلافِ سنت ہے اور اگر اس کی وجہ سے کھانا پکانے والے یا میزبان کی دل آزاری ہوجائے تو ممنوع ہے ۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے کبھی کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا (یعنی برا نہیں کہا) اگر خواہش ہوتی تو کھا لیتے اور خواہش نہ ہوتی تو چھوڑ دیتے۔ 

(بخاری، کتاب الاطعمۃ، رقم۵۴۰۹،ج۳،ص۵۳۱ )
Flag Counter