ان کو بیچے اور اللہ تعالیٰ بھیک مانگنے کی ذلت سے اس کے چہرے کو بچائے تو یہ بہتر ہے اس بات سے کہ لوگوں سے بھیک مانگے اور وہ اس کو دیں یا نہ دیں۔(بخاری، کتاب الزکوۃ،رقم۱۴۷۱،ج۱،ص۴۹۷ )
(3) حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا :'' بھیک مانگنا ایک قسم کی خراش ہے کہ آدمی بھیک مانگ کر اپنے منہ کو نوچتا ہے تو جو چاہے اپنے منہ پر خراش کو نمایاں کرے اور جو چاہے اس سے اپنا چہرہ محفوظ رکھے۔ ''ہاں اگر آدمی صاحب سلطنت سے اپنا حق مانگے یا ایسے امر میں سوال کرے کہ اس سے چارہ کار نہ ہو تو جائز ہے۔''
(سنن ابی داؤد ، کتاب الزکوٰۃ ، باب ماتجوز فیہ المسألۃ،رقم الحدیث ۱۶۳۹، ج۲،ص۱۶۸)
(4) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے بھیک مانگتا ہے وہ گویا انگارہ مانگتا ہے تو اس کو اختیار ہے کہ بہت مانگے یا کم مانگے۔(مسلم،کتاب الزکوۃ،رقم۱۰۴۱،ص۵۱۸)
(5) حضرتِ سیدنا کبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : '' میں تین باتوں میں قسم اٹھاتاہو ں اور تمہیں ایک کام کی بات بتاتاہوں اسے یاد کرلو(۱)صدقہ بندے کے مال میں کمی نہیں کرتا (۲)جس بندے پر ظلم کیا جائے اوروہ اس پر صبر کرے اللہ عزوجل اس کی عزت میں اضافہ فرمائے گا (۳)جس بندے نے سوال کا دروازہ کھولا اللہ عزوجل اس پر فقرکا دروازہ کھول دے گا۔'' (ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء مث الدنیا اربعۃ نفر، رقم ۲۳۳۲، ج۴، ص ۱۴۵)