Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
64 - 152
    (6) حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ کونین صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ''امیر اور طاقتور کیلئے صدقہ حلال نہیں ۔ صدقہ صرف انتہائی غریب ، ادائیگیِ قرض سے ناتواں اوراس شخص کیلئے ہے جس پر دیت یا قصاص لازم ہوجائے اورجسں نے اس لیے لوگوں سے سوال کیا تاکہ مال میں کثرت ہوتو ایسا سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پر زخم اورجہنم کا پتھر ہوگا جسے یہ کھا ئے گا تو جو چاہے اس میں کمی کرے اورجو چاہے زیادتی کرے۔ ''اور حضور انے صدیق اکبر ، ابو ذر غفاری اور ثوبان رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ''تمہار کوڑا بھی گر جائے تو کبھی کسی سے سوال مت کرنا''۔

(سنن الترمذی ، کتاب الزکوۃ ، باب ماجاء من لاتحل لہ الصدقۃ ، رقم الحدیث ۶۵۳،ج۲،ص۱۴۰)

    اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم
بیسویں قسم          دورُخی اختیار کرنا
    اسے دوغلا پن بھی کہا جاتا ہے،اس سے مراد یہ ہے کہ انسان دودشمنوں کے درمیان لگائی بجھائی کرے یعنی جس کے پاس جائے اسی کی حمایت میں بولے ۔(احیاء العلوم ، کتاب آفات اللسان،ج۳،ص۱۹۵)

     حضرت عمار بن یاسررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ''جو دنیا میں دوغلا پن اختیار کرے توروزِقیامت اسکی آگ کی دوزبانیں ہونگی ۔''

(الترغیب والترہیب، کتاب الادب ، باب ذی الوجھین وذی اللسانین ، رقم الحدیث ۴،ج۳،ص۳۷۱) 

    جبکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: '' تم
Flag Counter