| جنّت کی دوچابیاں |
قضائے شہوت كرے اور ان میں سے كوئی اپنے ہمسفر كاراز فاش كردے"۔
(صحیح مسلم,كتاب النكاح,باب تحریم افشاء سرالمرءۃ رقم الحدیث ١٤٣٧,ص٧٥٣)
لیکن تین قسم کی باتوں کو ظاہر کرنا جائز ہے جیسا کہ۔۔۔۔۔۔
حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پُرنورصلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا:'' مجالس امانت ہیں سوائے تین قسم کی مجالس کے ، (۱)جس مجلس میں کسی کو ناحق قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہو(۲)حرام جماع کا منصوبہ بنا ہو(۳)ناحق مال لینے کا منصوبہ بنا ہو۔''(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ،رقم الحدیث ۴۸۶۹، ج۴،ص۳۵۱)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلمانیسویں قسم بلاحاجت سوال کرنا
بلاحاجت کسی بھی مسلمان کو سوال کرنے (یعنی بھیک مانگنے) کی شریعت کی جانب سے اجازت نہیں ہے۔بھیک کی مذمت میں کئی احادیث مروی ہیں چنانچہ
(1) حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : '' آدمی ہمیشہ لوگوں سے بھیک مانگتا رہے گا یہاں تک کہ قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت کی بوٹی نہ ہو گی ،نہایت بے آبرو ہو کر آئے گا۔'' (بخاری ، کتاب الزکوۃ،رقم ۱۴۷۴،ج۱،ص۴۹۹)
(2) حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ شفیع محشر صلي الله عليه وسلم
نے فرمایا :'' تم میں سے جو شخص اپنی رسی لے کر اور لکڑیوں کا ایک گٹھا پیٹھ پر لاد کر لائے اور