جائے گا اورکہا جائے گا ، اس مردے کے گوشت کو اسی طرح کھاؤجس طرح اسکی زندگی میں اس کا گوشت کھاتے تھے ۔ جب وہ اس حکم کی وجہ سے کھائے گا توپریشان ہوجائے گا اورچیختا رہے گا۔'' (مجمع الزوائد ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۱۳۱۲۹،ج۸،ص۱۷۳)
پیارے اسلامی بھائیو! ہم میں سے ہر ایک کو چاہے کہ وہ ان اخروی پریشانیوں سے بچنے کے لئے غیبت سے مکمل پرہیز کرے اور سابقہ زندگی میں کی گئی غیبت کی معافی طلب کرے اور اگر اس شخص کو غیبت کی خبر ہوچکی ہو جس کی غیبت کی تھی تو اس سے بھی معافی مانگنا ضروری ہے ۔ (غیبت کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے امیرِ اہلِ سنت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس قادری مدظلہ العالی کے مکتوب''غیبت کی تباہ کاریاں ''مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کا مطالعہ فرمائیں ۔)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم