| جنّت کی دوچابیاں |
قطعی کو حلال بتایا الخ ۔ لیکن یادر ہے کہ کہنے والا اسی صورت میں کافر ہوگا جب اسے غیبت کے حرامِ قطعی ہونے کا علم ہو اور وہ غیبت کی تعریف بھی جانتا ہو ۔
(ماخوذ از رسالہ'' غیبت کی تباہ کاریاں'' ،ص۱۵)
پیارے اسلامی بھائیو!
غیبت کرنے والے کو آخرت میں اپنی زبان کی بے احتیاطی کا وبال بھگتنا پڑے گا ،جیسا کہ
(1) سرکارِ دو عالم صلي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' میں نے معراج کی رات میں لوگوں کو اس حال میں دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنے ناخنوں سے اپنے چہروں کو نوچ رہے ہیں، میں نے حضرت جبرائیل ں سے پوچھا :'' یہ کون لوگ ہیں؟ ''تو انہوں نے بتایا: ''یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کی غیبت اور آبروریزی کیا کرتے تھے۔ ''(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ،باب فی الغیبۃ،رقم۴۸۷۸ ج۴،ص۳۵۳)
(2) حضرتِ سیدناابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ کونین صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ''قیامت کے دن ایک شخص کو اسکا نامۂ اعمال پڑھنے کیلئے دیا جائے گا ،وہ اسے دیکھ کر کہے گا:'' اے میرے رب !میری فلاں فلاں نیکیاں کہاں ہیں جومیں نے کی تھیں؟ '' رب تعالیٰ فرمائے گا کہ'' لوگوں کی غیبت کرنے کی وجہ سے میں نے تیرے نامۂ اعمال سے وہ نیکیاں مٹا دی ہیں۔ ''
(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۳۰،ج۳،ص۳۳۲)
(3) حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ''جو دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھاتاہے بروزِ قیامت وہ گوشت اسکے پاس لایا