ترجمہ کنزالایمان :اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی یہ پسند رکھے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے، تو یہ تمہیں گوارا نہ ہو گا۔(پ۲۶،الحجرات:۱۲)
افسوس صد افسوس ! آج مسلمانانِ عالم کی اکثریت زبان کی اس آفت میں مبتلاء ہے ۔ شاید ہی کوئی مجلس اس گناہ کے ارتکاب سے خالی ہوتی ہو ،محض وقت گزاری کی خاطر کسی غائب شخص کو ہدف بنا کر اس کی خوب غیبت کی جاتی ہے پھر اگر اس شخص کو اس کی خبر ہو جائے تو وہ بھی جوابی کاروائی کے طور پر اپنی غیبت کرنے والوں کی غیبت کرتا ہے اور یوں گناہوں کا بازار گرم ہونے کے ساتھ ساتھ گھر گلی اور محلہ میدانِ کارزار کی صورت اختیار کر لیتے ہیں ۔سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات غیبت کرنے کے باوجود اسے غیبت تسلیم کرنے سے بھی انکار کردیا جاتا ہے جسے علمائے کرام نے کفر قرار دیا ہے چنانچہ صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہارشریعت حصہ ۱۶ ص۶۴۶ پر نقل فرماتے ہیں کہ ''ایک شخص غیبت کررہا ہے ،اس سے کہا گیا کہ غیبت نہ کرو، وہ کہنے لگا :یہ غیبت نہیں میں سچا ہوں ۔''تو یہ کفر ہے کیونکہ اس شخص نے ایک حرام