چھٹی قسم غیبت کرنا اور بہتان لگانا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غیبت سے مراد یہ ہے کہ اپنے زندہ یا مردہ مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے پوشیدہ عیوب کو (جن کا دوسروں کے سامنے ظاہر ہونااُسے ناپسند ہو) اس کی برائی کے طور پر ذکر کیا جائے ،اور اگر وہ بات اس میں موجود نہ ہوتو اسے بہتان کہتے ہیں ۔مثلاً ، ''مجھے بے وقوف بنا رہا تھا '' ،''اس کی نیت خراب ہے ''،''ڈرامہ باز ہے ''وغیرہ (ماخوذ از بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۶۴۵)
رسول ِ اکرم صلي اللہ عليہ وسلم نے دریافت فرمایا:'' تمہیں معلوم ہے غیبت کیا چیزہے؟'' لوگوں نے عرض کی:'' اللہ ورسول عزوجل و صلي اللہ عليہ وسلم کو اس کا بہتر علم ہے۔'' ارشاد فرمایا:'' غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کہو جو اسے بری لگے۔ ''کسی نے عرض کی:'' اگر میرے بھائی میں وہ برائی موجود ہو تو اس کو بھی کیا غیبت کہا جائے گا؟'' ارشاد فرمایا:'' جو کچھ تم کہتے ہو اگر اس میں موجود ہو جبھی تو غیبت ہے اور اگر تم ایسی بات کہو جو