| جنّت کی دوچابیاں |
مدِمقابل کو دھوکا دینا جائز ہے ، اسی طرح ظالم جب ظلم کرنا چاہتا ہے تو اس کے ظلم سے بچنے کے لئے بھی جائز ہے ، دوسری صورت یہ ہے کہ دومسلمانوں میں اختلاف ہے اور یہ ان دونوں میں صلح کروانا چاہتا ہے مثلاً ایک کے سامنے یہ کہتا ہے کہ وہ تمہیں اچھا جانتا ہے اور تمہاری تعریف کرتا تھا ،اس نے تمہیں سلام کہلا بھیجا ہے اور دوسرے کے پاس بھی اسی قسم کی باتیں کرے تاکہ دونوں میں عداوت کم ہوجائے اور صلح ہوجائے اور تیسری صورت یہ ہے کہ بیوی کو خوش کرنے کے لئے کوئی بات خلاف ِ واقع کہہ دے ۔''
(بہار شریعت،حصہ ۱۶، مسئلہ نمبرا ،ص۶۳۸)
مسئلہ:
اگر سچ بولنے میں فساد پیدا ہوتا ہو تو اس صورت میں بھی جھوٹ بولنا جائز ہے اور اگر جھوٹ بولنے میں فساد ہوتا ہو تو حرام ہے اور شک ہو کہ معلوم نہیں کہ سچ بولنے میں فساد ہوگا یا جھوٹ بولنے میں ہوگا جب بھی جھوٹ بولنا حرام ہے ۔(بہار شریعت،حصہ ۱۶، مسئلہ نمبر۶ ،ص۶۳۸)
مسئلہ :
بعض صورتوں میں کذب واجب ہے جیسے کسی بے گناہ کو ظالم شخص قتل کرنا چاہتا ہے یا ایذاء(یعنی تکلیف ) دینا چاہتا ہے ،وہ ڈر سے چھپا ہوا ہے ۔ ظالم نے کسی سے دریافت کیا کہ وہ کہاں ہے تو یہ کہہ سکتا ہے کہ'' مجھے نہیں معلوم ،''اگرچہ جانتا ہو ،یا کسی کی امانت اس کے پاس ہے ،کوئی اسے چھیننا چاہتا ہے (اور اس سے )پوچھتا ہے کہ امانت کہاں ہے ؟(تو)یہ انکار کرسکتا ہے کہ میرے پاس اس کی امانت نہیں (ہے )۔(بہار شریعت،حصہ ۱۶، مسئلہ نمبر۴ ،ص۶۳۸)