Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
42 - 152
تین ہیں ، شرک ،والدین کی نافرمانی ،جھوٹی قسم اور کسی کو قتل کرنا۔''
 (بخاری ، کتاب الایمان والنذور ،رقم الحدیث۶۶۷۵،ج۴،ص۲۹۵)
    اور حضرت سیدناابواُمامۃرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ''جو اپنی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق چھینے تو اللہ اس پر جہنم کو واجب اورجنت کو حرام کر دے گا۔''صحابہ نے عرض کیا :''یا رسول اللہ ! اگر وہ معمولی شئی ہوتو ؟'' فرمایا: ''اگرچہ لوبان ہی ہو۔'
' (مسلم ، کتاب الایمان ، رقم الحدیث۱۳۷،ص۸۲)
    پیارے اسلامی بھائیو! جھوٹ بولنے والا دنیا میں چاہے کتنی ہی کامیابیاں سمیٹ لے، آخرت میں اسے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا اور خسارۂ آخرت سے بڑھ کر انسان کے لئے کوئی مصیبت نہیں ہے ۔ لہذ ا! ہمیں چاہے کہ اپنی زبان کو جھوٹ بولنے سے محفوظ رکھیں لیکن یاد رہے کہ تین مقامات پرضرورت کے سبب جھوٹ بولنے کی شریعت کی جانب سے رخصت بھی دی گئی ہے جیسا کہ 

حضرت سيدتنا ام كلثوم رضي الله تعالي عنها فرماتي هيں کہ میں نے رکار مدینہ صلي الله عليہ وسلم کو بظاہر غلط بیانی کی اجازت دیتے ہوئے نہیں سنا سوائے تین مقامات کے ،چنانچہ آپ صلي الله عليہ وسلم نے فرمایا:''(۱)میں اس شخص کو جھوٹا شمار نہیں کرتا جولوگوں کے درمیان صلح کروائے اور ایسی بات کہے جس کا مقصد صرف اصلاح ہو ،(۲)اور وہ آدمی جو جنگ کے دوران کوئی بات کہے ،(۳)اور آدمی اپنی بیوی سے کچھ کہے یا بیوی اپنے خاوند سے کچھ کہے۔''
 (سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۴۹۲۱،ج۴،ص۳۶۶)
    صدر الشریعہ مفتی محمدامجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں :''تین صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی اس میں گناہ نہیں ،ایک جنگ کی صورت میں کہ یہاں اپنے
Flag Counter