Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
44 - 152
مسئلہ:

    جس قسم کے مبالغہ کا عادۃً رواج ہے ،لوگ اسے مبالغہ پر ہی محمول کرتے ہیں اس کے حقیقی معنی مراد نہیں لیتے ،وہ جھوٹ میں داخل نہیں مثلاً یہ کہا کہ ''میں تمہارے پاس ہزار مرتبہ آیا یا ہزار مرتبہ میں نے تم سے کہا ۔'' یہاں ہزار کا عدد مراد نہیں بلکہ کئی مرتبہ آنا اور کہنا مراد ہے ۔(لیکن) یہ لفظ ایسے موقع پر نہیں بولا جائے گا کہ ایک ہی مرتبہ آیا ہو یا ایک ہی مرتبہ کہا ہو ،اور اگر ایک مرتبہ آیا اور یہ کہہ دیا کہ میں ہزار مرتبہ آیا تو جھوٹ ہے۔
 (بہار شریعت،حصہ ۱۶، مسئلہ نمبر ۷،ص۶۳۸)
    اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم
تیسری قسم         جھوٹی گواہی دینا
    کسی کے خلاف جھوٹی گواہی دینا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، اس کی مذمت کرتے ہوئے سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے ایک مرتبہ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد تین مرتبہ فرمایا: ''جھوٹی گواہی ، شرک کے برابر ہے،پھر یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوۡا قَوْلَ الزُّوۡرِ ﴿ۙ۳۰﴾
ترجمۂ کنزالایمان : تو دور ہو بتوں کی گندگی سے اوربچو جھوٹی بات سے۔

(پ ۱۷،الحج:۳۰) 

     ایک مقام پر تین مرتبہ ارشاد فرمایا:''سن لو ! تمہیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں بتاتاہوں۔ (۱)شرک(۲)والدین کی نافرمانی (۳)جھوٹی گواہی ''
 (صحیح البخاری ، کتاب الادب ، رقم :۵۹۷۶،ج۴،ص۹۵)
Flag Counter