Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
41 - 152
جو کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس کے آگے لوہا لگا ہوا تھا ،وہ اسے بیٹھے ہوئے آدمی کی ایک باچھ میں ڈال کر کھینچتا حتی کہ وہ اس کے کندھے تک آجاتی پھر وہ اسے واپس کھینچتا اور دوسرے باچھ میں ڈال کر اسی طرح کھینچتا پھر جب اسے واپس کھینچتا تو وہ واپس اپنی جگہ آجاتی ۔ میں نے لے جانے والے سے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ جھوٹ بولنے والا شخص ہے اسے قیامت تک قبر میں عذاب دیا جاتا رہے گا۔''
 (صحیح بخاری ،کتاب الجنائز، رقم الحدیث ۱۳۸۶،ج۱،ص۴۶۷)
جھوٹ کی مذمت کرتے ہوئے آپ صلي الله علي وسلم نے ارشاد فرمایا :

    ٭ ''جھوٹ، انسان کو رُسواکر دیتاہے اورچغلی عذابِ قبر کا سبب بنتی ہے ۔''
 (الترغیب والترہیب کتاب الادب ، رقم الحدیث ۲۸، ج۳،ص۳۶۸)
    ٭ ''جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کی بد بو سے ایک میل دور ہوجاتاہے ۔''
(الترغیب والترہیب کتاب الادب ، رقم الحدیث ۳۰، ج۳،ص۳۶۹)
    ٭'' سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور جھوٹ بولنا فسق و فجور ہے اور فسق و فجور دوزخ میں لے جاتا ہے۔''
 (مسلم، کتاب الادب،باب قبح الکذب، رقم۲۶۰۷،ص۱۴۰۵)
پیارے اسلامی بھائیو!

     صدافسوس کہ آج کثرت سے جھوٹ بولنے کو کمال اور ترقی کی علامت اور سچ کو بے وقوفی اور ترقی میں رکاوٹ تصور کیا جاتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو مذموم مقاصد کے لئے جھوٹی قسم اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ یاد رکھئے کہ یہ بھی گناہِ کبیرہ ہے جیسا کہ حضرتِ سیدنا ابن عمررضي الله عنه سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلي الله عليه وسلم نے فرمایا: ''کبیرہ گناہ
Flag Counter