Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
40 - 152
    لہذا ! ہمیں چاہے کہ پہلی فرصت میں کلماتِ کفریہ کے بارے میں معلومات حاصل کریں پھر اگر سابقہ زندگی میں ہم سے کوئی کلمۂ کفر صادر ہوگیا ہو تو فوراً توبہ کرکے تجدید ِ ایمان کریں اورآئندہ کے لئے اپنی زبان کو ایسے کلمات کی ادائیگی سے بچائیں ۔

مد ینہ :     اس کے لئے امیرِ اہل ِ سنت مدظلہ العالی کے رسالے ''اٹھائیس کلمات کفر''اورمکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب''ایمان کی حفاظت''کا مطالعہ فرمائیں ۔
دوسری قسم          جھوٹ بولنا
    پیارے اسلامی بھائیو!جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی بات واقع (حقیقت)کے برعکس کہی جائے ۔مثلاً کسی نے پوچھا: کیا آپ دوپہر میں سوئے تھے؟ اور آپ نے نہ سونے کے باوجود جواب دیا:''جی ہاں، سویا تھا ۔''(حدیقہ ندیہ ،ج۲،ص ۴۰۰)

جھوٹ سے منع کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
وَاجْتَنِبُوۡا قَوْلَ الزُّوۡرِ ﴿ۙ۳۰﴾حُنَفَآءَ لِلہِ
ترجمۂ کنزالایمان : اوربچو جھوٹی بات سے ایک اللہ کے ہوکر ۔'' (پ۱۷،الحج:۳۰،۳۱ )

    ممانعت کے باوجود زبان کی اس آفت سے نہ بچنے والوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے ارشاد فرمایا :
وَلَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ ۬ۙ بِمَا کَانُوۡا یَکۡذِبُوۡنَ
    ترجمہ کنزالایمان:اوران کے لئے دردناک عذاب ہے بدلا ان کے جھوٹ کا۔''(پ۱،البقرۃ:۱۰ )

    جبکہ سرکار ِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ ا نے ارشاد فرمایا :''میں نے دیکھا کہ گویا ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا:''اٹھئے۔'' میں اٹھ کر اس کے ساتھ چل دیا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ دو آدمی تھے ان میں سے ایک کھڑا ہوا تھاجبکہ دوسرا بیٹھا ہوا تھا ،
Flag Counter