| جنّت کی دوچابیاں |
پیارے اسلامی بھائیو! اگر کوئی شخص کلمہ کفر بکنے کے سبب کافر ہوجائے تو اس کا ایک نقصان تویہ ہوگا کہ اس کی پچھلی تمام نیکیاں برباد ہوجائیں گی جو توبہ کے بعد بھی واپس نہیں ملیں گی جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے :
وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالۡاِیۡمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ ۫
ترجمہ کنزالایمان :اورجو مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت گیا۔''(پ۶،المائدۃ:۵ )
اور اگر کسی بدنصیب کو توبہ کی توفیق نہ ملی اور حالتِ کفر میں ہی اس کا انتقال ہوگیا تو اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈال دیا جائے گا جیسا کہ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے :وَمَنۡ یَّرْتَدِدْ مِنۡکُمْ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَیَمُتْ وَہُوَکَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۱۷﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور تم میں جوکوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ۔(پ۲،البقرۃ:۲۱۷)
اور جہنم کا ہلکے سے ہلکا عذاب بھی برداشت کرنے کی سکت انسان کے ناتواں بدن میں یقینا نہیں ہے کیونکہ اس کاہلکاترین عذاب جس شخص کو ہوگا اسے آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی جس سے اس کا دماغ ہانڈی کی طرح کھولنے لگ جائے گا جیسا کہ حضرتِ سیدناابن عباس رضي الله عنه
روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلي الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ''دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہو گا اسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔''( صحیح البخاری ،باب صفۃ الجنۃ والنار، رقم الحدیث ۶۵۶۱، ص۱۱۶۵ )