Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
38 - 152
جانتا ہو مثلاً اللہ عزوجل کا ایک ہونا ، انبیاء کی نبوت ، نماز ، روزہ ،حج ، جنت ودوزخ ، قیامت میں اٹھایا جانا ، حساب وکتاب ہونا وغیرھا۔
 (بہارشریعت،حصہ۱،ص۴۸)
    یہ بھی یاد رکھئے کہ کسی ایک بھی ضرورتِ دینی کا انکار کرنا کفر ہوتا ہے اگرچہ بقیہ ضروریاتِ دینیہ کا اقرار کیا جائے ۔
 (البحر الرائق ،ج۵،ص۲۰۲)
    چنانچہ بلااکراہِ شرعی ،ہوش وحواس میں بغیر خطاء کے زبان سے کسی ضرورتِ دینی کا انکار کرنا یا ایسے الفاظ بولنا جس سے کسی ضرورتِ دینی کا انکار نکلتا ہو کفر ہے ۔مثلاً یہ کہنا کہ ''اللہ ہوتا تو میری دعا ضرور سنتا ۔''یا کسی نقصان پر یہ کہنا ''اللہ نے یہ بڑا ظلم کیا''کفر ہے ۔ ۱؎

    لیکن یاد رہے کہ اگرآپ کے سامنے کوئی شخص (معاذ اللہ عزوجل ) ایسا کلمہ کہہ ڈالے جسے علمائے کرام نے کفرقرار دیا ہوتو اُس پر فوری طور پر ''کفر کا فتویٰ''لگانے سے بھی پرہیز کریں کہ اسی میں عافیت ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو اور وہ کلمہ کفر نہ ہو یا پھر وہ کلمہ توکفر ہو لیکن اس کے کہنے والے کو کافر نہیں کہا جاتا، اس لئے راہِ سلامت یہی ہے کہ ایسا شخص احتیاطاً تجدید ایمان کرنے کے بعد فوراً کسی مفتی صاحب سے رابطہ کرے۔ (اس بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب''ایمان کی حفاظت'' کا مطالعہ فرمائیں )
(١)اكراہ شرعی سے مراد یہ ہے كہ كسی نے كلمہ كفر كہنے پر اس طرح مجبور كیا كہ اگر تم نے یہ كلمہ نہ كہاتو میں تمہیں مار ڈالوں گا یا جسم كافلاں حصہ كاٹ ڈالوں گا اور یہ شخص جانتا ہے كہ یہ اپنی دھمكی پر عمل كرگزرے گا تو ایسی حالت میں اسے رخصت دی گئی ہے جبكہ دل میں اطمینان ایمان موجود ہو,ہاں اگر توریہ كرسكتا ہے تو توریہ كرے مثلاً كسی كو معاذاللہ عزوجل نبی كریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم كو بُرا كہنے پر مجبور كیا گیا تو وہ اپنے دل میں كسی دوسرے محمد نامی شخص كا خیال لائے اور اسے بُرا كہ لے,نبی پاك صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم كا تصور ہرگز نہ كرے, اور اگر توریہ كرنا جانتا تھااور اس پر قادر بھی تھا لیكن نہ كیا تو اس پر حكمِ كفر ہے.(ماخوذ از شرح فقہ اكبر ص ٢٧٥,بہارِشریعت ,حصہ ١٥, مسئلہ نمبر ١٦,ص ٤٦٦)
Flag Counter